جس نے پارلیمنٹ پر دھاوا بولا، جہاں جہاں سے آرڈر آیا، اُن پر آرٹیکل 6 لگائیں، علی محمد خان

0

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ اگر آرٹیکل 6 لگانا ہے تو اسے ان لوگوں پر لگائیں جنہوں نے رات پارلیمنٹ پر دھاوا بولا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نو اپریل کو جہاں کھڑے تھے، آج بھی وہیں کھڑے ہیں، ہم بھاگنے یا چھپنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کا مقدمہ لڑنے کے لیے ایوان میں آنے کا اعلان کیا۔ علی محمد خان نے کل رات پارلیمنٹ پر حملے کو "جمہوریت کا نائن الیون” قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل یا بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے اندر سے ہوا، جہاں نقاب پوش افراد ایوان میں گھس کر ممبران کو اٹھا کر لے گئے۔

علی محمد خان نے سوال کیا کہ وہ نقاب پوش لوگ کون تھے جو بھارت، اسرائیل یا امریکہ سے نہیں آئے، بلکہ پاکستانی ایوان میں گھس کر ہمارے لوگوں کو اُٹھا کر لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ عمران خان، عامر ڈوگر، شیخ وقاص اکرم یا صاحبزادہ حامد رضا پر نہیں، بلکہ سپیکر قومی اسمبلی، وزیراعظم اور شہید بینظیر کے بیٹے بلاول بھٹو پر ہے۔ یہ حملہ پاکستان، آئین اور جمہوریت پر ہے۔

علی محمد خان نے سپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ آپ اس معاملے پر کھڑے ہوں، کیونکہ کل آپ کے بھائیوں کو پارلیمنٹ سے اٹھایا گیا، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر اور سامنے سے گرفتار کیا گیا۔ مولانا نسیم علی شاہ اور جمشید دستی کو مسجد سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جناح ہاؤس پر حملہ پاکستان پر تھا تو پارلیمنٹ پر حملہ کیا، کیا یہ پاکستان پر حملہ نہیں؟ انہوں نے درخواست کی کہ سپیکر قومی اسمبلی اپنا کردار ادا کریں، ورنہ اگر آپ کھڑے نہیں ہوتے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا کر چلے جائیں۔

Exit mobile version