وفاقی کابینہ کاآج ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا

0
pakalerts.pk

حکومت نے آج وفاقی کابینہ کا اجلاس موخر کر دیا ہے، جس کی وجہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حمایت نہ ملنا قرار دی گئی ہے۔ اجلاس میں آئینی ترمیم کی منظوری دی جانی تھی، لیکن مولانا فضل الرحمان کی مخالفت نے حکومت کو مشکل میں ڈال دیا۔ قومی اسمبلی میں آج معمول کی کارروائی جاری رہے گی، اور 26ویں آئینی ترمیم آج بھی پیش نہ ہونے کا امکان ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس میں صرف تین نکاتی ایجنڈے پر ہی غور کیا جائے گا، اور عدالتی اصلاحاتی پیکج آج پیش نہیں کیا جا سکے گا۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عدالتی اصلاحات سے متعلق آئینی ترمیم پر ڈیڈلاک برقرار ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے ججز کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیم بل پر حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور نظام کار کا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ہوا، جہاں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان آئینی ترامیم پر کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

خصوصی کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور نظام کار کا اجلاس پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ ساڑھے تین گھنٹے کی طویل بحث کے بعد اجلاس بے نتیجہ ختم ہوا، اور آئینی ترمیم پر ڈیڈلاک برقرار رہا۔ حکومت اجلاس میں اپوزیشن کو قائل کرنے میں ناکام رہی اور مجوزہ ترمیم کے اہم نکات پیش کیے، مگر مسودہ فراہم نہیں کیا، جس پر اپوزیشن نے کہا کہ مسودہ سامنے آنے تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے کہا کہ کمیٹی اجلاس میں مشاورت جاری ہے۔ جب تک کابینہ ڈرافٹ منظور نہیں کرتی، ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی کوشش ہے کہ آئینی ترمیم پر متفقہ فیصلہ ہو۔ دوسری جانب، شبلی فراز نے کہا کہ کوئی بات طے نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے سامنے کوئی مواد نہیں تھا، اور مولانا فضل الرحمان نے واضح طور پر اپنا اصولی موقف پیش کیا کہ جب تک ہمارے ساتھ چیزیں شیئر نہیں کی جائیں گی، ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی ترامیم کو سپورٹ کریں گے۔

Exit mobile version