ڈرون ٹیکنالوجی سے زراعت میں انقلاب: کسانوں کے لیے سنہری موقع یا چیلنج؟

0

اسلام آباد: ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان میں فصلوں کی پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ اور زراعت کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھائے جا رہے ہیں۔ منصوبہ بندی اور ترقی کی وزارت کے ماہر زراعت ڈاکٹر انور نے کہا کہ پنجاب، جو کہ پاکستان کی فوڈ باسکٹ کے طور پر جانا جاتا ہے، زراعت میں بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کی کمی جیسے مسائل کے پیش نظر فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ پنجاب کی سالانہ اناج کی پیداوار ملک کی کل پیداوار کا تقریباً 76 فیصد ہے۔

ڈرون ٹیکنالوجی کو ایک نئے دور کا آغاز قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر انور نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی فصلوں کی صحت، نشوونما، اور کیڑوں کی شناخت جیسے اہم مسائل کا بروقت اور مؤثر حل فراہم کر سکتی ہے۔ ڈرونز کے ذریعے بڑے فارموں کی نگرانی بھی نہایت آسان ہو جاتی ہے، جس سے کسانوں کی محنت اور وقت کی بچت ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈرونز کا استعمال کھاد، کیڑے مار ادویات اور جڑی بوٹی مار ادویات کی صحیح مقدار میں فراہمی کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف ماحولیاتی اثرات کم ہوتے ہیں بلکہ کسانوں کے اخراجات میں بھی کمی آتی ہے۔

لیکن، ڈاکٹر انور نے اس بات کی نشاندہی کی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے ڈرونز کی لاگت ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے حکومتی سبسڈی، گرانٹس، اور کم سود والے قرضوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ڈرونز کی دستیابی کو ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کسانوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے فوائد کے بارے میں آگاہی پھیلانے اور تربیتی پروگراموں کے انعقاد کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

زراعت میں ڈرون کے استعمال کے ضوابط کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ڈرونز کے محفوظ استعمال کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد میں پاک چین مشترکہ لیب کے قیام کو ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر انور نے کہا کہ اس لیب کے ذریعے کسانوں کو ڈرونز کے استعمال میں مہارت فراہم کی جا رہی ہے۔

زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ پنجاب کے 25,000 دیہاتوں میں ڈرون سپرے ٹیکنالوجی کو اپنانا زراعت میں انقلاب برپا کر سکتا ہے، جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ، لاگت میں کمی اور سمارٹ ایگریکلچر کی ترقی ممکن ہو سکے گی۔

Exit mobile version