سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے آئینی بینچز کو کیسز منتقل کرنے سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام مقدمات آئینی عدالت میں نہ جائیں اور کچھ کیسز دیگر بینچز کے پاس بھی رہنے دیں۔ سوئی نادرن زائد بلنگ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل بینچ نے اس کیس میں کسی آئینی یا قانونی سوال کی عدم موجودگی کی بنیاد پر اسے نمٹا دیا۔
جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس منصور علی شاہ کے درمیان آئینی بینچز کے حوالے سے دلچسپ گفتگو ہوئی، جس میں جسٹس عائشہ ملک نے مسکراتے ہوئے کہا کہ نئی ترمیم کے بعد آئینی کیسز اب آئینی بینچ ہی سنیں گے، اور انہوں نے مزید کہا کہ اب سپریم کورٹ میں ہر روز یہ سوال اٹھے گا کہ کیس کس بینچ میں جائے گا۔
26ویں آئینی ترمیم کے تحت آئینی نوعیت کے کیسز کے لئے علیحدہ بینچز کی تشکیل دی جا رہی ہے، جس سے عدالت میں سماعت کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس دوران جسٹس منصور علی شاہ نے مسابقتی کمیشن اور موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے کیسز کی سماعت کو بھی کچھ عرصے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو نئی ترمیم کی روشنی میں معاملات کو سمجھنے میں وقت لگے گا۔
