ہم نے سیاست کو گالی بنا دیا ہے،بلاول بھٹو زرداری

0

اکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیاست کو گالی بنا دینا ہماری بدقسمتی ہے، اور آئین کی بالادستی کے بغیر کوئی بھی ادارہ، بشمول پارلیمنٹ، ٹھیک سے کام نہیں کر سکتا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ سیاست اپنی جگہ ہے، مگر ہمیں ورکنگ ریلیشن شپ قائم رکھنی چاہیے۔ میرے اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے درمیان ذاتی دشمنی نہیں ہے، لیکن بانی پی ٹی آئی نے ماحول کو خراب کر دیا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر ہم آپس کی لڑائی میں لگے رہے تو ملک کیسے آگے بڑھے گا؟۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ کا لیڈر جیل میں ہے، لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا۔ آپ اس کا کیس میرٹ پر لڑیں۔ پارلیمان میں عوام نے ہمیں بھیجا ہے، اس لئے ہمیں عوام کا مقدمہ لڑنا ہے۔ ایوان میں ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، اور باہر کی سیاست ہمارا مسئلہ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کا کام آگ بجھانا ہے، نہ کہ مزید آگ لگانا۔ اپوزیشن کا کام ہر وقت گالی دینا نہیں ہے، بلکہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا۔ اگر حکومت یہ سوچے گی کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہے تو یہ ایک دن کی خوشی ہوگی، اگلے دن آپ بھی اسی جیل میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آپس کی لڑائی میں لگے رہے تو ملک کیسے آگے بڑھے گا؟

چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ عمران خان کے وزیراعظم ہونے کے دوران میری مخالفت صرف اس بات پر تھی کہ ہمارے خاندان نے جس سسٹم کے لیے قربانیاں دی ہیں، وہ چلا گیا۔ اسی وجہ سے بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاق جمہوریت کیا، 18ویں ترمیم کی، اور این ایف سی ایوارڈ منظور کرایا۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ حکومت کی کارکردگی کیا ہے۔ وزیر اعظم کو اس ایوان کو بتانا چاہیے کہ 8 ماہ پہلے مہنگائی کی شرح کیا تھی۔ حکومت نے اپنے بجٹ میں مہنگائی کا ہدف 12 فیصد رکھا تھا، لیکن ابھی سال بھی پورا نہیں ہوا اور مہنگائی کی شرح 9.6 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں تعریف کرنی چاہیے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے اور مزید تجاویز دینی چاہیے تاکہ حکومت کی آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کو نقصان نہ پہنچے۔ بلوچستان کے سینئر سیاستدان کے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک اسمبلی فعال نہیں ہوگی، ملک نہیں چلے گا۔ اسمبلی کی گیلریز میں طلبا موجود ہیں جو ملک کا مستقبل ہیں۔ ہمیں عوام کو تحفظ اور ریلیف دینا ہوگا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تحمل اور برداشت کی سیاست کو فروغ دینا ہوگا۔ گالی گلوچ کی سیاست سے ملک کا بھلا نہیں ہو رہا۔ اختلاف رائے سب کا حق ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو گالیاں دیں۔ ہمیں آپس کے اختلافات بھلا کر ملکی ترقی کے لیے سوچنا ہوگا۔ میری پی ٹی آئی اراکین سے اپیل ہے کہ وہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں آئیں اور اپنا موقف پیش کریں۔ قانون اور رولز بنانا ہمارا کام ہے۔

Exit mobile version