بڑے بلڈرز اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے حکومتوں میں شامل ہو کر سرکاری زمینوں پر قبضے کرتے ہیں

0
40
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی سیلاب سے متاثر اور بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندانوں کے حق میں بھرپور آواز بلند کرے گی۔ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرین کو متبادل رہائش فراہم کریں۔ ان کے مطابق یہ سیلاب بھارت کی آبی جارحیت اور پاکستان میں انتظامی نااہلیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر بروقت اقدامات کیے جاتے تو اتنی بڑی تباہی نہ آتی۔

چوہنگ لاہور میں الخدمت خیمہ بستی کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے نہ کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے لڑا اور نہ ہی بھارتی آبی جارحیت کے خلاف مؤثر انداز میں آواز اٹھائی۔ اگر یہ معاملہ عالمی عدالت میں لے جایا جاتا تو عوام کو اس بڑے نقصان سے بچایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی ضرورت پڑنے پر پاکستان کا پانی روک دیتا ہے اور نکاس کے لیے چھوڑ کر پاکستان کو ڈبوتا ہے، یہ کھلی جارحیت ہے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں اس تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ یہ حکمران فوٹو سیشنز میں مصروف رہتے ہیں جبکہ عوام کو بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو این او سی جاری کیے اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے انہیں منسوخ نہ کر کے شریک جرم بن گئیں۔ نتیجتاً دریا کے راستوں میں تعمیرات ہوئیں اور ہزاروں گھر سیلاب میں تباہ ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ اپنی زندگی بھر کی کمائی سے گھر بناتے ہیں مگر وہ حکومتی نااہلی اور مافیاز کی وجہ سے پانی میں بہہ گئے۔ جنگلات کی کٹائی اور پہاڑوں کی توڑ پھوڑ نے بھی قدرتی رکاوٹیں ختم کر کے سیلابی نقصانات میں اضافہ کیا۔

امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت کے کارکن متاثرین کو کھانا، عارضی رہائش اور دیگر سہولتیں فراہم کر رہے ہیں جبکہ خواتین رضاکار سیلاب زدہ خواتین کی خدمت اور بچوں کی تعلیم کا انتظام کر رہی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کے ساتھ شامل ہو کر متاثرین کی خدمت کریں کیونکہ یہ سیاست نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح کا کام ہے۔

منصورہ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑے بلڈرز اور مافیاز اسٹیبلشمنٹ کے سائے میں زمینوں پر قبضے کرتے ہیں اور ہاؤسنگ کالونیاں بنا کر عوام کو لوٹتے ہیں۔ پانی کی گزرگاہوں تک فروخت کر دی گئی ہیں اور عدالتیں بھی عوام کو انصاف دینے میں ناکام ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ اس بوسیدہ نظام کو بدل کر حقیقی عدل و انصاف قائم کیا جائے۔