ڈنمارک کا پاکستان کے سبز توانائی کے سفر میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد ڈنمارک نے پاکستان کے سبز توانائی کے سفر میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے قابلِ تجدید توانائی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اسلام آباد میں ڈنمارک کے ناظم الامور پیٹر ایمیل نیلسن نے بدھ کی شب ایک عشائیہ دیا جس میں ڈنمارک انرجی ایجنسی (DEA) کے اعلیٰ سطحی وفد کے اعزاز میں شرکت کی گئی۔
وفد کی قیادت کارل-کرسچن منک نیلسن، ڈائریکٹر سینٹر فار گلوبل کوآپریشن نے کی۔ اس تقریب میں حکومتی نمائندوں، توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین، ماحولیاتی تحفظ کے اسٹیک ہولڈرز اور ڈونر کمیونٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ نمایاں شرکاء میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، وزیر مملکت ڈاکٹر شیزہ علی خان اور وزیراعظم کے مشیر برائے توانائی محمد علی شامل تھے۔
اپنے خطاب میں پیٹر نیلسن نے پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ سانحات ماحولیاتی اقدامات کی فوری ضرورت کی یاد دہانی ہیں۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں اسٹریٹجک سیکٹر کوآپریشن (SSC) پروگرام کے تحت تعاون بڑھانے کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے ڈنمارک انرجی ٹرانزیشن انیشی ایٹو (DETI) کی کامیابیوں کا ذکر کیا جو 2021 سے جاری ہے اور جس کے تحت پاکستانی اور ڈنمارکی ماہرین نے سبز توانائی کی منتقلی میں نمایاں پیش رفت کی۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے ڈنمارک کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی شراکت داریاں پاکستان کے توانائی اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے اور نئے مواقع حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ ڈنمارک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر کارل-کرسچن منک نیلسن نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ مستقبل میں تعاون کے اہم شعبے قابل تجدید توانائی کی ترقی، توانائی کی بچت اور ماحولیاتی لچکداری ہوں گے۔ تقریب نے حکومتی نمائندوں، ترقیاتی شراکت داروں اور اسٹیک ہولڈرز کو مکالمے کا موقع فراہم کیا جس نے پاکستان اور ڈنمارک کے مشترکہ عزم کو اجاگر کیا کہ دونوں ممالک مل کر ایک صاف اور پائیدار توانائی کے مستقبل کے لیے کام کریں گے۔
سورس اردو پوائنٹ




























