جماعت اسلامی کے امیر نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے اعلیٰ اہلکار آئی پی پیز کے مالکان ہیں اور عوام کی محنت کی کمائی سے دولت باہر منتقل کر رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران آئی پی پیز کو 450 ارب روپے دیے گئے ہیں اور حکومت نے ان کے ساتھ ایسے معاہدے کیے ہیں جو عوام کے مفادات کے خلاف ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ آئی پی پیز کی اکثریت کے مالکان حکومتی اداروں میں موجود ہیں اور وہ عوام کی خون پسینے کی کمائی لوٹ کر بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کو بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود ماہانہ 10 ارب روپے ادا کیے جاتے ہیں اور اس طرح کی بدعنوانیوں کے خلاف قوم کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
سابق نگران وزیر گوہر اعجاز نے بھی پاور پلانٹس کو کی جانے والی ادائیگیوں کے حوالے سے حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ ان کے مطابق، آئی پی پیز میں سے کچھ فیکٹریاں 10 فیصد سے بھی کم کپیسٹی پر کام کر رہی ہیں جبکہ 4 پاور پلانٹس صرف بجلی پیدا کیے بغیر ماہانہ 1 ہزار کروڑ روپے وصول کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری حلال کمائی 40 خاندانوں میں کپیسٹی پیمنٹس کی صورت میں تقسیم ہو رہی ہے اور ادائیگیاں صرف اس صورت میں کی جائیں جب بجلی پیدا کی جائے۔
مزید یہ کہ گوہر اعجاز نے بتایا کہ جنوری 2024 سے مارچ تک آئی پی پیز کو 150 ارب روپے دیے گئے، اور ہر ماہ 150 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ دنیا اخبار کی رپورٹ کے مطابق، اس وقت گھریلو صارفین کو بجلی 60 روپے فی یونٹ، کمرشل صارفین کو 80 روپے، اور انڈسٹریل صارفین کو 40 روپے فی یونٹ مل رہی ہے۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جس میں سے 2 ہزار ارب روپے کپیسٹی پیمنٹس کے لیے ادا کیے جانے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 1994ء، 2002ء، اور 2015ء میں کیے گئے پاور پلانٹس کے معاہدے ملک کے معاشی بحران کی بڑی وجہ بن چکے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت بجلی خریدی جائے یا نہ خریدی جائے، قیمت ہر صورت ادا کرنا پڑتی ہے اور وہ بھی ڈالر میں۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق، آئی پی پیز کی اوسطاً 47.9 فیصد بجلی ہی استعمال کی جا رہی ہے، لیکن ان آئی پی پیز کو 100 فیصد ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔
روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث کپیسٹی پیمنٹس کا حجم مزید بڑھ رہا ہے۔ 2013ء میں کپیسٹی پیمنٹس کی رقم 185 ارب روپے تھی، جو 2024ء تک 2 ہزار 10 ارب روپے سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔ 11 سالوں میں آئی پی پیز کو 6 ہزار 300 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں، اور سب سے زیادہ کپیسٹی پیمنٹس 2015ء کے بعد قائم ہونے والی کوئلے سے چلنے والی آئی پی پیز کو کی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی واجب الادا رقم 692 ارب روپے، ونڈ پاور پلانٹس کی 175 ارب روپے، آر ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس کی 185 ارب روپے، سولر اور بگاس سے چلنے والے آئی پی پیز کی 112 ارب روپے، اور نیوکلیئر پاور پلانٹس کی 443 ارب روپے ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان آئی پی پیز کی پیداواری صلاحیت انتہائی کم ہے، اور مالی سال 2022/23ء کے دوران حب پاور پلانٹ سے صرف 2.17 فیصد، روش پاور سے 5.7 فیصد، اور کیپکو پاور پلانٹ سے 15.7 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
نیپرا کی رپورٹ کے مطابق، 2023ء میں 25 فیصد تک یوٹیلائزیشن والے آئی پی پیز کو 153 ارب روپے، 50 فیصد تک پیداوار والے آئی پی پیز کو 65 ارب روپے، اور 75 فیصد تک یوٹیلائزیشن والے آئی پی پیز کو 214 ارب روپے ادا کیے گئے۔ پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے کپیسٹی پیمنٹس کے معاہدے ہیں۔ اگر ان معاہدوں پر نظرثانی نہ ہوئی تو صارفین کو ہر سال بجلی استعمال کیے بغیر اربوں روپے ادا کرنے ہوں گے۔
