ینک کے نام فراڈ کا شکار ہوکر لوگ اپنی قیمتی جمع پونجی سے محروم ہوجاتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ بینکوں کے نام پر دھوکا دہی سے ہوشیار رہیں، دھوکے باز فون یا میسج کے ذریعے آپ سے رابطہ کرکے خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں، یہ او ٹی پی، پن، پاس ورڈ یا موبائل نمبر مانگتے ہیں تاکہ آپ کا اکاؤنٹ ویریفائی کیا جاسکے۔
فراڈ کرنے والوں کا مقصد آپ کی موبائل بینکنگ تک رسائی حاصل کرنا اور آپ کی رقم چوری کرنا ہوتا ہے۔
درج ذیل باتوں پر عمل کرکے آپ دھوکا دہی سے بچ سکتے ہیں:
کوئی بھی معلومات ہر گز نہ بتائیں:
بینک کی جانب سے کبھی بھی فون یا میسج پر حساس معلومات نہیں مانگی جاتیں، پرسکون رہیں اور کسی بھی فوری درخواست پر یقین اور عمل نہ کریں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے:
ہمیشہ کسی بھی غیرمعمولی درخواست کی تصدیق اپنے بینک کی ہیلپ لائن پر کال کرکے یا برانچ جاکر کریں۔
دھوکے کی صورت میں کیا کریں:
دھوکے کی صورت میں فوری اپنے بینک کو اطلاع دیں اور فراڈ کے لیے استعمال ہونے والے نمبر کو رپورٹ کریں۔
