"صدر آصف علی زرداری نے 26 ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیے، ملک میں سودی کاروبار کا خاتمہ متعین”
صدر مملکت آصف علی زرداری نے 26 ویں آئینی ترمیم پر باضابطہ دستخط کر دیے، جس کے بعد یہ تاریخی ترمیم نافذ العمل ہو گئی۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دوتہائی اکثریت سے منظوری کے بعد، وزیراعظم شہباز شریف نے ترمیم کی توثیق کے لیے سمری صدر مملکت کو ارسال کی تھی۔ صدر زرداری کے دستخطوں کے بعد اس آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
ترمیم کے اہم نکات میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تقرری کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی تین سینئر ججز کے پینل میں سے نئے چیف جسٹس کے انتخاب کے لیے وزیر اعظم کو سفارشات پیش کرے گی۔ مزید برآں، سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان تشکیل دیا جائے گا جس میں چیف جسٹس سمیت چار سینئر ججز اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے ارکان شامل ہوں گے۔
ایک اہم شق کے مطابق، ملک سے سودی کاروبار کا خاتمہ یکم جنوری 2028 تک کر دیا جائے گا، جس سے معاشی نظام میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
