عمران خان کا جسٹس منصور علی شاہ کا بطور چیف جسٹس نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ

0

عمران خان، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین، نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کی بطور چیف جسٹس پاکستان تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا کہ آئینی عدالت کا مقصد موجودہ چیف جسٹس کی طاقت کو ختم کرنا ہے اور قاضی فائز عیسیٰ کو آئینی کورٹ میں بٹھانا حکومت کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آئینی ترامیم کے ذریعے خود کو فائدہ پہنچا رہے ہیں اور انصاف فراہم کرنے سے گریزاں ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن فراڈ کو چھپانے کے لیے حکومت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور چیف الیکشن کمشنر آپس میں ملے ہوئے ہیں، اور یہ چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی دوبارہ طاقت میں نہ آ سکے۔ عمران خان نے جسٹس منصور علی شاہ کی بطور چیف جسٹس تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ملک میں عدلیہ کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ججز کو دباؤ میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے 8 فروری کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کبھی ان انتخابات کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا۔ عمران خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت نے عدلیہ کے فیصلے پہلے سے طے کر رکھے ہیں اور ججز کو صرف ان کا اعلان کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا موازنہ یحییٰ خان کے دور سے کیا اور کہا کہ اُس وقت بھی طاقت کے زور پر جمہوریت کو کمزور کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا۔

Exit mobile version