احتساب عدالت میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس واپس نیب کو بھجوانے کا عمل شروع کر دیاگیا، ملزمان نے رمضان شوگر ملز ریفرنس واپس نیب کو بھجوانے کیلئے درخواستیں دائر کردیں،احتساب عدالت میں وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس پر ڈیوٹی جج زبیر شہزاد کیانی نے سماعت کی۔
شہباز شریف کی جگہ ان کے پلیڈر انوار حسین حاضری کیلئے پیش ہوئے جبکہ حمزہ شہباز کی ایک روزہ حاضری کی معافی کی درخواست دائر کی گئی عدالت نے حمزہ شہباز کی حاضری سے معافی کی درخواست منظور کرلی۔وکلاءنے موقف دیا کہ حمزہ شہباز کمر کی تکلیف کے باعث پیش نہیں ہوسکتے۔ ڈاکٹرز نے حمزہ شہباز کو بیڈ ریسٹ کا مشورہ دے رکھا ہے۔
وکلا نے حمزہ شہباز کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی عدالت میں پیش کیا۔
دوران سماعت عدالت میں وکلاءنے مو¿قف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نیب ترامیم بحالی کے فیصلہ کے بعد ریفرنس قابل سماعت نہیں۔ احتساب عدالت کو اس ریفرنس کی سماعت کا اختیار نہیں رہا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان رمضان شوگر ملز ریفرنس واپس نیب کو بھجوانے کیلئے درخواستیں دائر کریں۔ آئندہ سماعت پر ریفرنس واپس بھجوانے کی درخواستوں پر سماعت ہو گی۔
احتساب عدالت نے ریفرنس پر مزید سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کردی۔عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف کو حاضری سے مستقل استثنیٰ دے رکھا ہے۔یاد رہے کہ18 فروری 2019 کو قومی احتساب بیورو نے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس میں نیا ریفرنس دائر کیا تھا۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر قومی خزانے سے تحصیل بھوانہ میں رمضان شوگر ملز کیلئے گندا نالا تعمیر کرانے کا الزام عائد کیاگیا تھا۔
نیب ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی جانب سے اس نالے کی تعمیر سے قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہواتھا۔نیب ریفرنس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر سرکاری خزانہ سے گندہ نالہ بنانے کا الزام عائد کیا گیاتھاجس میں کہا گیاتھا کہ گندہ نالہ رمضان شوگر ملز کو فائدہ پہنچانے کیلئے بنایا گیاتھا۔بعدازاں شہباز شریف کا موقف سامنے آیا تھا کہ گندہ نالہ مقامی ایم پی اے کی درخواست پر پورے علاقے کیلئے بنایا گیاتھا اور نیب ریفرنس بدنیتی اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے دائر کیا گیا تھا۔
