پاکستان سے متحدہ عرب امارات کی پروازوں کے کرایوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے خلیجی ممالک کا سفر کرنے والے پاکستانی مزدوروں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک کے لیے پرواز کرنے والے ورکرز کے ہوائی کرایوں پر 5 ہزار روپے (تقریباً 66 درہم) کی فکسڈ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ یہ اعلان پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کیا گیا ہے، جس نے ہوائی سفر کی لاگت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، خلیجی تعاون کونسل (GCC) ممالک کا پرنٹ شدہ لیبر ویزہ رکھنے والے اور پاکستان سے بین الاقوامی سفر کرنے والے وہ کارکن جو پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس (بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ) سے تصدیق شدہ ہیں، ان سے فی ٹکٹ 5 ہزار روپے وصول کیے جائیں گے۔
متحدہ عرب امارات میں جنوبی ایشیائی شہریوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہونے کی وجہ سے یو اے ای پاکستان فضائی راہداری پہلے ہی سے مصروف ترین رہی ہے۔ سیٹوں کی دستیابی کی کمی کی وجہ سے ہوائی کرایہ پہلے ہی زیادہ تھا، اور اب یہ نیا ٹیکس بلیو کالر ورکرز کی معمولی کمائی پر مزید دباؤ ڈالے گا۔ ان ورکرز کی بڑی تعداد پاکستانی ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے، جس سے ملک کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
یو اے ای میں مزدور کے طور پر کام کرنے کے بعد اب ایک نجی کمپنی میں اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے والے پاکستانی علی احمد نے کہا، "یہ ٹیکس میرے جیسے کارکنوں پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ شاید یہ درہم میں تھوڑی سی رقم لگتی ہو، لیکن 5 ہزار روپے پاکستان کے دور دراز علاقوں سے مالی مشکلات کے باعث آنے والے غریب مزدوروں کے لیے بڑی رقم ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو ایسے فیصلے کرتے وقت ان ورکرز کے بارے میں سوچنا چاہیے، کیونکہ یہ ورکرز ملک میں ترسیلات زر کے سب سے بڑے ذریعہ ہیں۔
پچھلے چند سالوں میں ملازمتوں کی کمی، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے اس ملک سے لوگوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کر رہی ہے۔ اس خطے میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان، بحرین، قطر اور کویت شامل ہیں، جہاں پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد آباد ہے۔ اس نئے ٹیکس سے ان ورکرز پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے جو بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
