افغانستان: زلزلہ متاثرین کی امداد میں رکاوٹ، طالبان کی خواتین امدادی کارکنوں پر پابندی

0
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

کابل/نیویارک (11 ستمبر 2025): اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں حالیہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خواتین کارکنوں پر طالبان کی پابندیوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس قدرتی آفت سے متاثرہ 4 لاکھ 57 ہزار افراد کی مدد کے لیے کم از کم 140 ملین ڈالر درکار ہیں۔

زلزلے سے تباہی اور امدادی سرگرمیاں

مشرقی افغانستان کے تقریباً 400 دیہات متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 80 سے زائد دیہات بری طرح تباہ ہو گئے۔ اب تک 6 ہزار گھر منہدم ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار اداروں نے ہنگامی بنیادوں پر:

60 ہزار افراد کو خوراک فراہم کی،
30 ہزار افراد کو صاف پانی مہیا کیا،
حاملہ خواتین اور غذائی قلت کے شکار بچوں کو خصوصی غذائی مدد دی،
ہنگامی پناہ گاہیں، گھروں کی مرمت کا سامان اور طبی سہولیات فراہم کی ہیں۔

مزید برآں، دو درجن سے زیادہ طبی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ادویات، ایمبولینس گاڑیوں اور ضروری طبی آلات کے ساتھ خدمات انجام دے رہی ہیں۔

خواتین کارکنوں پر پابندیاں

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کے مطابق طالبان حکام نے خواتین امدادی کارکنوں پر دفاتر اور متاثرہ علاقوں میں داخلے کی پابندی لگا دی ہے۔

7 ستمبر کو کابل میں خواتین کو اقوام متحدہ کے دفتر میں داخل ہونے سے روکا گیا۔
یہ پابندی اب کابل، ہرات اور مزار شریف سمیت ملک بھر میں اقوام متحدہ کے مراکز پر نافذ کر دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق خواتین عملے کو نہ صرف متاثرہ علاقوں بلکہ ایران و پاکستان سے واپس آنے والے افغان شہریوں کے مراکز تک رسائی سے بھی روکا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی

اقوام متحدہ نے اس اقدام کو انسانی حقوق اور عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ پابندیاں نہ صرف امدادی کاموں کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ انسانی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کا افغانستان مشن (یوناما) طالبان حکام سے رابطے میں ہے اور مطالبہ کر رہا ہے کہ یہ پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں تاکہ متاثرہ عوام کو درکار امداد بلا رکاوٹ پہنچائی جا سکے۔

Exit mobile version