یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) سے تمام تعاون ختم کر دیا
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جون میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کو دوبارہ تعمیر کرے گا۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے منسلک نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی صدر نے کہا کہ "حکومت اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ جوہری تعمیر نو کی حمایت کرتی ہے”، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) سے تمام تعاون ختم کر دیا ہے، جس کے باعث تباہی یا تعمیر نو سے متعلق کوئی بیرونی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔بتایا گیا ہے کہ صدر پزشکیان نے یہ بیان ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے دورے کے موقع پر دیا جہاں انہوں نے ملک کی جوہری صنعت کے سینیئر منتظمین سے ملاقات کی۔
اس موقع پر ایرانی صدر نے کہا کہ ”عمارتوں اور فیکٹریوں کی تباہی ہمارے لیے مسئلہ نہیں، ہم انہیں زیادہ قوت کے ساتھ۔ دوبارہ تعمیر کریں گے”، صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ "ایران جوہری ہتھیاروں کا پروگرام نہیں چلا رہا بلکہ جوہری توانائی کو سول مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، اس حوالے سے مغربی الزامات مکمل جھوٹ ہیں اور یہ ایران کی سائنسی ترقی کو روکنے کی کوشش ہے”۔ایران کے رہنما بارہا کہہ چکے ہیں کہ جوہری ہتھیار بنانا مذہبی طور پر ممنوع ہے، تاہم مغرب میں خدشات موجود ہیں کہ ایران اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو استعمال کر کے جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے، جون میں اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو خود کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے 12 روزہ جنگ چھیڑی تھی، جس میں امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ ایران نے شدید نقصان کی تصدیق کی تھی۔امریکہ کےایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کا حصہ تھیں، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر سول مقاصد کے لیے ہے، صدر پزیشکیان نے ایران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ سب عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہے، بیماریوں کے لیے، عوام کی صحت کے لیے ہے۔
