ملک میں بجلی کے شعبے کے گردشی قرضوں میں کمی کے باعث صارفین کے لیے بجلی سستی ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاور ڈویژن کے حکام نے بتایا ہے کہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرض 700 ارب روپے کی کمی کے بعد 2300 ارب سے گھٹ کر 1600 ارب روپے پر آ چکا ہے۔ اس بہتری کی بڑی وجوہات میں بجلی کے نقصانات میں کمی، ڈسکوز کی ریکوری میں بہتری اور نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) سے ہونے والے معاہدوں کے تحت بچت شامل ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی نظم و ضبط اور بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری کے اثرات اب واضح ہونا شروع ہو چکے ہیں، جس سے نہ صرف گردشی قرضہ کم ہوا بلکہ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں پر دباؤ بھی کم ہونے کی امید ہے۔
ادھر نئے مالی سال 2024-25ء کے دوسرے ماہ کے آغاز کے بعد بجلی صارفین کے لیے ایک بڑی خوش خبری سامنے آئی ہے، جس کے تحت بجلی کے نرخوں میں کمی متوقع ہے۔
مرکزی پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو چوتھی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں کمی کی باقاعدہ درخواست دے دی ہے۔
نیپرا نے اس درخواست پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو صارفین کو بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ ایک روپے 75 پیسے تک کمی کی صورت میں ریلیف ملے گا۔
ذرائع کے مطابق، درخواست کی منظوری کی صورت میں صارفین کو مجموعی طور پر 53 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد کا ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ یہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ نہ صرف سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) بلکہ کراچی میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک پر بھی لاگو ہو گی۔
نیپرا اگر ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے لیے ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دے دیتی ہے تو بجلی کی قیمت میں 2 روپے 10 پیسے فی یونٹ تک کی کمی ممکن ہے، جبکہ اگست، ستمبر اور اکتوبر کے لیے فی یونٹ 1 روپے 75 پیسے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اگر آپ چاہیں تو اسی خبر کو مختصر، رومن اردو یا ہیڈ لائنز کی صورت میں بھی دے سکتا ہوں۔
سورس اردو پوائنٹ
