برازیل: سابق صدر کو بغاوت کی کوشش پر 27 سال قید کی سزا

0
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

برازیلیا (12 ستمبر 2025): برازیل کی سپریم کورٹ نے سابق صدر جیئر بولسونارو کو بغاوت کی سازش اور جمہوریت کو کمزور کرنے کے الزامات میں 27 سال قید کی سزا سنا دی۔

عدالت کا فیصلہ

جمعرات کو پانچ رکنی بینچ میں سے تین ججوں نے سزا کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد بولسونارو کو قصوروار قرار دے دیا گیا۔

جسٹس کارمن لوسیا نے فیصلہ کن ووٹ دیتے ہوئے کہا:

’’یہ مقدمہ برازیل اور اس کے ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک ملاقات ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ واضح ثبوت موجود ہیں کہ بولسونارو نے ’’جمہوریت اور اداروں کو کمزور کرنے کے ارادے‘‘ سے منصوبہ بنایا۔بولسونارو کو ایک مسلح مجرمانہ گروہ میں حصہ لینے، بغاوت منظم کرنے، جمہوریت کے خاتمے کی کوشش، اور سرکاری و ثقافتی املاک کو نقصان پہنچانے کا مجرم قرار دیا گیا۔

الزامات کی تفصیل

8 جنوری 2023 کو بولسونارو کے حامیوں نے دارالحکومت برازیلیا میں صدارتی انتخابات کے بعد سرکاری عمارتوں پر دھاوا بولا۔
اٹارنی جنرل کے مطابق بولسونارو اور ان کے ساتھی ایک ’’مسلح مجرمانہ گروہ‘‘ کا حصہ تھے جس کا مقصد جمہوریت کو پرتشدد طریقے سے گرانا تھا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سابق برازیلی صدر پر بغاوت کے الزامات میں کارروائی کی گئی ہے۔

سیاسی تقسیم اور عالمی ردِعمل

بولسونارو اس وقت گھر میں نظر بندی پر ہیں کیونکہ عدالت نے ان کے ’’فرار کا خدشہ‘‘ ظاہر کیا تھا۔ اس کے باوجود وہ برازیل میں اب بھی ایک مقبول رہنما ہیں۔
گزشتہ اتوار کو ان کے حق میں ملک بھر میں بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔

امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادی بولسونارو کے خلاف مقدمے کو ’’ڈائنوں کا شکار‘‘ قرار دیا اور برازیل کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیا۔

برازیلی صدر لولا ڈا سلوا نے ٹرمپ کے رویے کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ اور برازیل کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔

بولسونارو کے حامی الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہیں اور ٹرمپ کی حمایت کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔

Exit mobile version