یہ جمعہ 15 اگست 2025 کی دوپہر کا وقت تھا۔ میں اے آر وائی نیوز کے پشاور بیورو میں موجود تھا اور صبح سے ہی خیبر پختونخوا کے شمالی اضلاع — شانگلہ، سوات، دیر، باجوڑ، بٹ گرام، مانسہرہ، چترال اور بونیر — سے بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی تھیں۔
ایسی صورتحال میں ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ فوری طور پر موبائل سے بنائی گئی ابتدائی ویڈیوز یا تصاویر شیئر کر دی جائیں۔ اور جیسے ہی حالات مزید سنگین ہوں تو فوراً ڈائریکٹ سیٹلائٹ نیوز گیدرنگ (DSNG) گاڑی روانہ کی جائے، تاکہ موقع پر پہنچ کر لائیو کوریج شروع کی جا سکے۔ اکثر ڈرائیور بھی ایمبولینس کے سائرن کی طرح گاڑی دوڑاتے ہیں تاکہ خبر ناظرین تک سب سے پہلے پہنچے۔ یقیناً یہ ایک پرخطر عمل ہے، لیکن ناظرین کو لمحہ بہ لمحہ صورتحال دکھانا ہر نیوز چینل کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔
فیصلہ سازی کا عمل
اسی تناظر میں بیورو میں ایک ہنگامی میٹنگ بلائی گئی۔ ابتدا میں خیال تھا کہ ٹیم کو باجوڑ بھیجا جائے، مگر ہمارے ساتھی ظفر اللہ نے آگاہ کیا کہ وہاں سیلابی صورتحال اب قابو میں ہے۔ مزید یہ کہ علاقے میں سیکیورٹی خدشات بھی موجود ہیں کیونکہ سیلاب سے قبل ماموند تحصیل میں شرپسند عناصر کے خلاف آپریشن جاری تھا اور کچھ گاؤں سے لوگ نقل مکانی بھی کر چکے تھے۔
اس دوران اطلاع ملی کہ بونیر اور سوات میں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ فوری طور پر فیصلہ ہوا کہ اسلام آباد بیورو سے ایک DSNG گاڑی سوات بھیجی جائے جہاں ہمارے رپورٹر شہزاد عالم اور کیمرہ مین کامران پہلے سے موجود تھے۔ ساتھ ہی پشاور کی دو DSNG گاڑیوں میں سے ایک کو بونیر روانہ کیا گیا۔
بونیر سے براہِ راست آواز
بونیر میں ہمارے ساتھی شوکت علی نے مشکل حالات کے باوجود بھرپور کوریج کی۔ انہوں نے متاثرین کی تکالیف، بہتے گھروں اور ٹوٹتے پلوں کی منظر کشی کر کے ناظرین تک زمینی حقائق پہنچائے اور ان لوگوں کی آواز بنے جو خود اپنے حالات بیان کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔