غزہ (11 ستمبر 2025): اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی قلت تشویشناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق غزہ شہر میں 20 فیصد بچے خوراک کی کمی کے باعث شدید جسمانی کمزوری کا شکار ہیں۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق جولائی میں غذائی قلت کا شکار بچوں کی شرح 8.3 فیصد تھی جو اگست میں بڑھ کر 13.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے میں قحط کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے۔ گزشتہ ماہ 19 فیصد بچوں کو غذائی قلت کے علاج کی سہولت دی گئی، جو جولائی میں 16 فیصد تھی۔
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ غزہ کے بچوں کو فوری طور پر اضافی غذائیت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے باعث 10 غذائیت مراکز بند ہو گئے ہیں، جس سے صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔
بنیادی سہولیات شدید متاثر
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، غزہ شہر میں تقریباً 10 لاکھ افراد روزانہ کی بمباری اور نقل مکانی کے احکامات کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ صرف اتوار سے پیر کے دوران 25 ہزار افراد نے غزہ شہر کے مختلف حصوں سے انخلا کیا۔
شدید حملوں کی وجہ سے طبی اور امدادی مراکز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اب تک 12 بنیادی طبی مراکز اور بڑے پیمانے پر کھانا فراہم کرنے والے 2 مراکز نے کام بند کر دیا ہے۔ شمالی غزہ میں 95 عارضی تعلیمی مراکز بھی بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، جہاں 25 ہزار بچے زیر تعلیم تھے۔
صحت کی سہولیات پر دباؤ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، غزہ شہر میں فعال اسپتالوں کی نصف تعداد موجود ہے اور ہنگامی طبی امداد کے زیادہ تر بستر بھی یہیں ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا کہ غزہ ان باقی سہولیات کو کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اوچا کے مطابق، امدادی کارروائیوں میں تاخیر اور مشکلات بڑھ رہی ہیں، جبکہ فلسطینی عملے کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث امدادی سرگرمیوں میں شمولیت سے انکار بھی سامنے آ رہا ہے۔
اقوام متحدہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کے شمال اور جنوب سمیت تمام علاقوں میں امداد کی بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائی جائے تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔
