راولپنڈی (17 ستمبر 2025): عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس سمیت 9 مئی کے 12 مقدمات کا جیل ٹرائل ختم کر دیا ہے۔ اب ان مقدمات کی سماعت انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) میں ہوگی، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے ممکن بنائی جائے گی۔
9 مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد درج کیے گئے ان مقدمات میں عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور کئی اہم رہنما نامزد ہیں۔ ان مقدمات میں جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سمیت حساس عسکری اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے الزامات شامل ہیں۔
جی ایچ کیو حملہ کیس تھانہ آر اے بازار میں درج ہوا تھا، جس میں عمران خان کے ساتھ شاہ محمود قریشی، علی امین گنڈاپور، راجا بشارت اور شیخ رشید سمیت 120 ملزمان شامل ہیں۔ اس کیس کے اہم گواہ محمد ریاض کا بیان 6 جون 2025 کو قلمبند کیا گیا تھا، جس دوران وکلا صفائی نے عدالت میں شور شرابہ اور نعرے بازی کی، جس پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے تھے۔
گواہ محمد ریاض نے بیان دیا تھا کہ جے آئی ٹی اجلاس میں پیمرا اور ایف آئی اے کے فراہم کردہ شواہد پیش کیے گئے جن سے ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی ریاستی اداروں اور افواج کے خلاف نفرت انگیزی میں ملوث رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور شہریار آفریدی کی تقاریر کے ویڈیو شواہد بھی ان کی موجودگی میں تحویل میں لیے گئے۔
سماعت کے دوران وکلا صفائی نے بار بار مؤقف اختیار کیا کہ معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کو عدالت میں آنے دیا جائے، بصورت دیگر وہ کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔ عدالتی ماحول کشیدہ ہونے پر جج نے کارروائی متاثر کرنے پر وکلا کو تنبیہ بھی کی تھی۔
یہ مقدمات اب اے ٹی سی میں باقاعدہ کھلی سماعت کے ذریعے آگے بڑھیں گے، جسے 9 مئی کے واقعات سے متعلق عدالتی کارروائی میں اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
