گورننس کی ناکامی اور ٹرانسمیشن نظام کی کمزوری لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ قرار

0
pakalerts.pk
pakalerts.pk

نیپرا رکن کے اضافی نوٹ میں انکشاف — جولائی 2022 سے عوام پر 121 ارب کا اضافی بوجھ

اسلام آباد (12 ستمبر 2025) — بجلی کے شعبے میں بدانتظامی اور ٹرانسمیشن سسٹم کی ناکامی کو ملک میں جاری لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ نیپرا کے ممبر ٹیکنیکل رفیق شیخ کے اضافی نوٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جولائی 2022 سے اب تک صارفین پر 121 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جا چکا ہے۔

اضافی نوٹ کے اہم نکات:

  • گورننس اور ٹرانسمیشن کی ناکامیاں براہ راست بجلی کی پیداواری لاگت اور فیول کاسٹ میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
  • گڈو پاور پلانٹ کی بندش صرف جولائی میں 96 کروڑ روپے کا بوجھ لے آئی۔
  • نیلم جہلم منصوبہ بند رہنے سے پہلے ہی عوام سے 75.5 ارب روپے کے سرچارجز وصول کیے جا چکے ہیں۔
  • لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن کی تاخیر اور جزوی لوڈ ایڈجسٹمنٹ کے باعث 71 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

نتیجہ

یہ خامیاں نہ صرف لوڈشیڈنگ بڑھا رہی ہیں بلکہ بجلی کی فی یونٹ لاگت میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔ رفیق شیخ نے واضح کیا کہ پاور سیکٹر میں فوری اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ صارفین کو مزید مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔

Exit mobile version