وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 اور مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 کی توثیق کردی

0
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حجاج کرام کو سہولیات کی فراہمی کیلئے اگلے سال حج آپریشن کی مکمل ڈیجیٹائزیشن خوش آئند اقدام ہے، اور یہ حکومت کی ترجیح ہوگی کہ زائرین کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں۔ نوجوانوں کو اے آئی کے شعبے میں تعلیم، تربیت اور ترقی کے مساوی مواقع دینا بھی حکومتی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج پالیسی 2026 اور نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حج 2026 کے تحت سرکاری اسکیم کی بکنگ اگست 2025 سے قسط وار ادائیگیوں کے ذریعے شروع ہوگی۔ نجی ٹور آپریٹرز کو صرف 60 ہزار افراد کو لے جانے کی اجازت ہوگی۔ اس سال سعودی عرب سے کوٹہ بڑھانے کی بھی درخواست کی گئی ہے، امید ہے کوٹہ 2 لاکھ 35 ہزار تک بڑھ جائے گا۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ چاہے کوٹہ بڑھے یا نہ بڑھے، نجی شعبے کیلئے حاجیوں کی حد 60 ہزار ہی برقرار رہے گی۔ سرکاری حج اخراجات کا تخمینہ ساڑھے 11 سے ساڑھے 12 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ کوٹہ اب 70 فیصد سرکاری اور 30 فیصد نجی بنیادوں پر تقسیم ہوگا۔ پچھلے سال جن نجی کمپنیوں کی وجہ سے حاجی نہ جا سکے، ان کا حج 2026 میں یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حج آپریشن میں تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی جائے گی تاکہ زائرین کو ان کی رقم کے مطابق مکمل خدمات مہیا کی جائیں۔ ہر نجی کمپنی کیلئے کم از کم 2000 حاجیوں کا ہدف رکھا گیا ہے۔ حج معاونین کا انتخاب ٹیسٹ کے ذریعے کیا جائے گا۔ حاجیوں کو موبائل سم، ڈیجیٹل رسٹ بینڈ، معیاری رہائش، خوراک اور ہنگامی صورت میں معاوضے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

پاک حج موبائل ایپ کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ ادائیگی، تربیت، شکایات اور دیگر خدمات بروقت میسر ہوں۔ اجلاس نے متعلقہ وزارتوں اور افسران کی کاوشوں کو سراہا۔

نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کے تحت آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو ملک بھر میں فروغ دیا جائے گا۔ پالیسی میں تعلیم، تربیت، خواتین اور معذور افراد کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ آسان شرائط پر قرض اور کاروباری مواقع دیئے جائیں گے۔ پالیسی میں سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا پروٹیکشن، اور حکومتی اداروں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ بین الاقوامی اداروں سے شراکت داری، عالمی اصولوں کا انضمام اور 2030 تک 10 لاکھ افراد کی تربیت، 3 ہزار وظائف، ایک ہزار مقامی اے آئی مصنوعات اور 50 ہزار "اے آئی سٹیزنز” کی تیاری کا ہدف شامل ہے۔ ایک ہزار تحقیقی منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔

عمل درآمد کیلئے اے آئی کونسل، ماسٹر پلان اور ایکشن میٹرکس تشکیل دی جائے گی۔ اجلاس نے نجکاری کمیٹی کے 8 جولائی، اور قانون سازی کمیٹی کے 17 اور 25 جولائی کے فیصلوں کی توثیق بھی کردی۔

وزیراعظم نے ہدایت دی کہ وزارت آئی ٹی، وزارت مذہبی امور کے ساتھ مل کر حج آپریشن کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے ذریعے ایف بی آر اور ملکی نظام کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے، اور نوجوانوں کو اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

سورس اردو پوائنٹ

Exit mobile version