حکومت اپنے موجودہ اخراجات میں نمایاں کمی کرے ‘ پیٹرن میاں سہیل نثار، چیئرمین سید محمود غزنوی
پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)کے پیٹرن انچیف میاں سہیل نثار ،چیئرمین سید محمود غزنوی ،سینئر وائس چیئرمین مدثر مسعود چودھری اور وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے کہا ہے کہ حالیہ رجحانات یہ واضح کرتے ہیں کہ تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا خطرہ ہے جو حکومت کے اس بنیادی ہدف کو نقصان پہنچا سکتا ہے کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کو آخری بنایا جائے،خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ یوٹیلٹی چارجز اور محصولات کے حصول کے لیے پیٹرولیم لیوی پر بھاری انحصار صنعت اور برآمدات پر دبا ئوڈال رہا ہے جس پر فی الفور نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔
اپنے مشترکہ بیان میں پیاف کے عہدیداروں نے کہا کہ یورپی یونین کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس جو اکتوبر 2023 میں 31 دسمبر 2027 تک بڑھایا گیا گزشتہ دہائی میں ہماری برآمدات میں 108 فیصد اضافے کا سبب بناتاہم یورپی یونین کا ایک معمول کا مانیٹرنگ مشن کی جلد پاکستان آمد متوقع ہے اور اسلام آباد میں یورپی یونین کے سفیر کے مطابق انسانی اور محنت کشوں کے حقوق سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
پیاف رہنمائو ں نے مزید کہا کہ تشویشناک امر یہ ہے کہ بڑی صنعتوں جن میں برآمدی شعبہ بھی شامل ہے نے جولائی تا مئی 2025 1.21 فیصد منفی شرح نمو ظاہر کی یہ صورتحال واضح اشارہ دیتی ہے کہ موجودہ معاشی حکمت عملی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔اگرچہ آئی ایم ایف کسی بھی قسم کے ترغیبی اقدامات کی مخالفت کرتا ہے اور شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں پروگرام معطل ہونے کا خطرہ موجود ہے لیکن شاید بہتر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اپنے موجودہ اخراجات میں نمایاں کمی کرے اس سے بڑی صنعتوں پر محصولات کا دبا ئوکم ہوگا اور برآمدکنندگان کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے گا۔
