ملاقاتوں کے حوالے سے حکومت سے کوئی رابطہ یا کمٹمنٹ نہیں، ایم این ایز کی طرف سے عمران خان سے ملاقات کی درخواست جمع کرائی ہے، ایک خط بھی چیف جسٹس کے پاس جمع کرا رہے ہیں؛ چیئرمین پی ٹی آئی کی گفتگو
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ہمیں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق تشویش ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منگل کا روز عمران خان سے ملاقات کا دن ہے، ملاقات پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے، پارٹی کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق تشویش ہے، گزشتہ ہفتے ہم 15 ویں بار چیف جسٹس سے ملنے آئے لیکن وہ نہیں ملے، ہم نے پیغام چھوڑا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں کو مقرر کیا جائے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ حکومت سے ملاقاتوں کے حوالے سے کوئی رابطہ یا کمٹمنٹ نہیں، ملاقات قیدی کا بنیادی حق ہے، ملاقاتیں عدالتی کے احکامات کے مطابق ہونی چاہئیں، اس حوالے سے ہم نے ایم این ایز کی طرف سے عمران خان سے ملاقات کی درخواست جمع کرائی ہے، ایک خط ایم این ایز کے دستخط کرکے چیف جسٹس کے پاس جمع کرا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو آنکھ کی بیماری کے باعث پمز ہسپتال لائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، اس حوالے سے صحافی اسد اللہ خان کا کہنا ہے کہ میرا سورس یہ دعویٰ کر رہا ہے عمران خان کی دائیں اۤنکھ میں سی آر وی او نامی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے جس کی وجہ سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو گزشتہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات جو 24 اور 25 جنوری کی درمیانی رات بنتی ہے، رات کے دوسرے پہر پمز ہسپتال لایا گیا جہاں انہیں آنکھ کی بیماری سی آر وی او (CRVO) کے علاج کیلئے انجکشن دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سورس کا دعویٰ ہے ایک دو لوگوں کا سٹاف تھا، عمران خان ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آئے اور کہا میں معذرت چاہتا ہوں آپ کو رات گئے تکلیف دی، سورس کے مطابق عمران خان کا مورال ٹھیک تھا اور وہ اچھی حالت میں تھے لیکن میں ابھی اس خبر کو غیر تصدیق شدہ کہہ رہا ہوں کیوں کہ میں نے ابھی اسے ڈبل چیک کرنا ہے۔
صحافی نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان کی دائیں اۤنکھ کی وین میں بلاکیج ہوگئی ہے اس کا سائیڈ ایفیکٹ یہ ہے کہ مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی متاثر ہوسکتی ہے، پمز اسپتال کے ڈاکٹرز اس سلسلے میں تین وِزٹ 16، 19 اور 21 جنوری کو اڈیالہ جیل کا کرچکے ہیں، جیل انتظامیہ کا اصرار ہے کہ عمران خان کا علاج یہیں کیا جائے جب کہ ڈاکٹر عارف نے لکھ کر دیا ہے کہ ان کا علاج یہاں نہیں ہوسکتا، سابق وزیراعظم کو اۤپریشن تھیٹر لے جانا پڑے گا جہاں انہیں 3 انجیکشن لگنا ہیں، یہ معاملہ حساس ہے، میں بغیر توجہ دیئے اور پورا معائنہ کیئے عمران خان کو یہاں جیل میں ٹریٹمنٹ دے دوں اور کل کو انہیں نقصان ہوجائے تو یہ میرے ذمہ اۤجائے گا، اس لیے میں یہ رِسک نہیں لے سکتا کہ انہیں یہاں پر ٹریٹمنٹ دوں
