اسلام آباد: بھارت نے آبی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں واقع دو بڑے ڈیموں کے تمام گیٹ کھول دیے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی۔
پانی کا اخراج اور پاکستان میں داخلہ
بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے 2 لاکھ کیوسک پانی نے سب سے پہلے دریائے ستلج، راوی اور چناب میں طغیانی پیدا کی۔
ابتدائی طور پر خانکی، مرالہ اور قادر آباد کے علاقے شدید متاثر ہوئے۔
پانی کے ریلے نے سیالکوٹ، نارووال اور قریبی دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے سیکڑوں بستیاں زیر آب آگئیں۔
انتظامیہ نے مزید تباہی سے بچنے کے لیے دو بند دھماکے سے اڑادیے تاکہ پانی کو گزرنے کا راستہ مل سکے۔
مستقبل کا خطرہ
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال قابو میں نہ آئی تو پانی کا یہ ریلا آگے بڑھتے ہوئے گدو بیراج کے ذریعے سندھ میں داخل ہوگا، جس سے مزید تباہی کا خدشہ ہے۔
موسمی صورتحال
اس وقت ملک میں مون سون کا آٹھواں اسپیل جاری ہے جبکہ نواں اسپیل 29 اور 30 اگست کی درمیانی شب متوقع ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلے اسپیل کے بعد سیلابی صورتحال سندھ میں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
