بھارت نے جولائی کے آخر میں پہلی بار ایک سرکاری وفد دمشق بھیج کر شام کی عبوری حکومت سے رسمی سطح پر رابطہ کیا تاکہ شام کی ترجیحات اور منصوبوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری سریش کمار نے شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت داخلی سیاسی حالات سے قطع نظر شام کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھنے میں سنجیدہ ہے۔
اعلیٰ سطحی سفارتی روابط
ان ملاقاتوں میں طبی تعاون، تعلیمی و تکنیکی اشتراک، اور انسانی امداد و تعمیر نو جیسے امور پر بات کی گئی۔ یاد رہے کہ شام کے طویل عرصہ اقتدار میں رہنے والے صدر بشار الاسد کو دسمبر میں ایک باغی اتحاد نے معزول کر دیا تھا، جس کی قیادت ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے ہاتھ میں ہے، اور اسے ترکی، سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔
عبوری حکومت کی باگ ڈور اب ایچ ٹی ایس کے سابق رہنما احمد الشرع کے ہاتھ میں ہے۔
خطرات اور امکانات میں توازن
تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں کے مطابق، شام کی عبوری حکومت سے رابطہ بھارت کو تعمیر نو کے عمل میں کردار ادا کرنے کا موقع دیتا ہے، اور خطے میں اپنی موجودگی کو مضبوط کرتا ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر مدثر قمر کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ حکمت عملی اس کی غیر جانب دار شبیہ کو مضبوط بناتی ہے، کیونکہ وہ مختلف حکومتوں سے تعلقات قائم رکھ کر علاقائی استحکام میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
قمر کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای جیسے بھارت کے قریبی شراکت دار شام کو عبوری مرحلے میں امداد دے رہے ہیں، اور بھارت بھی ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت بھارت کی خارجہ پالیسی میں اعتماد کا اشارہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شام اب ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جو بھارت کے لیے اس ملک کی اسٹریٹجک اہمیت کو اور بڑھا دیتا ہے۔
بھارت کے تزویراتی مفادات
قمر کے مطابق شام میں بھارت کے طویل المدتی توانائی، اقتصادی اور سفارتی مفادات موجود ہیں، جنہیں نئی حکومت کے ساتھ محتاط رابطے سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک مستحکم شام خطے میں تجارتی و توانائی راستوں کی حفاظت یقینی بناتا ہے، جو بھارت کی معیشت کے لیے اہم ہے، خاص طور پر ایران سے کشیدگی کے تناظر میں۔
دسمبر میں نئی حکومت کے بعد سے شام میں فرقہ وارانہ تشدد کئی بار سر اٹھا چکا ہے۔ تحقیقی ادارے منترایا کی ڈائریکٹر شانتی ڈی سوزا کے مطابق، بھارت کا نئی حکومت سے رابطہ وہاں مقیم بھارتی شہریوں کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بناتا ہے۔
ڈی سوزا نے کہا کہ نئی حکومت کو اب بھی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، اور بھارت کی جانب سے دی جانے والی انسانی امداد و تعمیر نو کی کوششیں اسے قبول ہوں گی۔
ان کے مطابق بھارت کا یہ قدم شدت پسند عناصر سے بچاؤ، اور نئی حکومت کو مستحکم بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس طرح بھارت ممکنہ خلا کو پُر کر رہا ہے جسے دوسری طاقتیں استعمال کر سکتی تھیں۔
بھارت کی بدلتی سفارت کاری
بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد کئی ممالک نے شام کی بدلتی صورتحال کو اپنی پالیسیوں میں شامل کر لیا ہے۔ ان میں وہ ریاستیں بھی شامل ہیں جو پہلے اسد کے حامی یا مخالف تھیں، لیکن اب سبھی استحکام اور اثر و رسوخ کو ترجیح دے رہی ہیں۔
ڈی سوزا کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر بھارت نے غیر واضح پالیسی اپنائی، لیکن اب اس نے واضح سفارتی سمت اختیار کی ہے۔ بھارتی وفد کا دمشق کا حالیہ دورہ تسلیم کرتا ہے کہ شام میں اب طاقت کا مرکز تبدیل ہو چکا ہے اور بھارت کو اس نئی حقیقت کے مطابق روابط ترتیب دینے ہوں گے۔
انہوں نے اس عمل کا موازنہ افغانستان کی صورتحال سے کیا، جہاں بھارت اب طالبان سے عملی تعلقات قائم کر رہا ہے۔
نئے مواقع کا دروازہ
بھارتی وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق، شام میں سفارتخانے کو خانہ جنگی کے باوجود فعال رکھنا بھارت کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا ثبوت ہے۔
سابق سفارتکار انیل تریگونایت کے مطابق، بھارت نے ہمیشہ شام سے تاریخی و تہذیبی تعلقات قائم رکھے ہیں اور شامی قیادت میں مسائل کے پرامن حل کی حمایت کی ہے۔
تریگونایت، جو ویویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن میں مغربی ایشیا کے امور کے ماہر ہیں، نے کہا کہ شام کے ساتھ بھارت کے تعلقات بھی دوسرے ممالک کی طرح دو طرفہ نوعیت کے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران شام میں کمزور ہو چکا ہے، جب کہ ترکی کا عبوری رہنما احمد الشرع پر اثر بڑھ رہا ہے۔ ترکی اب بھارت سمیت مغربی و عرب ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا، "چاہے شام میں خلا ہو یا نہ ہو، بھارت کو مشرق وسطیٰ کے تمام شراکت داروں کے ساتھ روابط قائم رکھنا ہوں گے۔”
ادارت: صلاح الدین زین
