سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے بھی چیف جسٹس یحیی آفریدی کو خط لکھ دیا۔ اطلاعات کے مطابق ستائیسویں آئینی ترمیم کے معاملے پر سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس اطہر من اللہ سمیت سابق 38 لاء کلرکس نے بھی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے خط میں لکھا کہ ’سپریم کورٹ اکثر طاقتور کے ساتھ کھڑی رہی عوام کے ساتھ نہیں، ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی عدلیہ کا ناقابل معافی جرم تھا، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف کارروائیاں بھی ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں اور اب عمران خان کے ساتھ ہونے والا سلوک اسی جبر کے تسلسل کا حصہ ہے۔اپنے خط میں سپریم کورٹ کے جج نے مزید لکھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو عوامی اعتماد حاصل کرنے پر نشانہ بنایا گیا، بہادر ججز کے خط اور اعتراف سپریم کورٹ کے ضمیر پر بوجھ ہیں، ہم سچ جانتے ہیں مگر صرف چائے خانوں میں سرگوشیوں تک محدود ہیں، بیرونی مداخلت اب کوئی راز نہیں، ایک کھلی حقیقت ہے اور جو جج سچ بولتا ہے وہ انتقام کا نشانہ بنتا ہے، جو جج نہیں جھکتا اس کے خلاف احتساب کا ہتھیار استعمال ہوتا ہے۔قبل ازیں 27 ویں آئینی ترمیم کے معاملہ پر جسٹس منصور علی شاہ نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا، جسٹس منصور علی شاہ کا اپنے خط میں کہنا تھا کہ بطور عدلیہ سربراہ فوری طور پر ایگزیکٹو سے رابطہ کریں، واضح کریں کہ آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں ہوسکتی، آئینی ترمیم کے معاملے پر فوری طور پر فل کورٹ اجلاس طلب کیا جائے، آئینی عدالتوں کے ججز پر مشتمل کنونشن بھی بلایا جاسکتا ہے۔انہوں نے خط میں کہا کہ آپ اس ادارے کے اینڈمنسٹریٹر نہیں محافظ بھی ہیں، یہ لمحہ آپ سے لیڈرشپ دکھانے کا تقاضا کرتا ہے، میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت صرف 6 سال کیلئے بنائی جانا تھی، میثاق جمہوریت کے وقت پرویز مشرف کا آمرانہ دور ختم ہوا تھا، موجودہ حالات میں ملک میں کون سا آئینی خلا ہے؟ اس وقت ملک میں آئینی عدالت کے قیام کی کیا ضرورت ہے؟۔
