جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کا نیا خط منظرعام پر

0
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ایک اور خط تحریر کر دیا ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ججز کمیٹی میں 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر فل کورٹ بنانے کا فیصلہ ہوچکا تھا، تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ بینچ تشکیل کا معاملہ آئینی بینچ اور آئینی کمیٹی کو بھجوایا گیا تھا، جب کہ اس وقت دونوں کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

تفصیلات کے مطابق چند روز قبل چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی جانب سے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کو بھیجے گئے خطوط منظر عام پر آئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس نے فل کورٹ کی تشکیل پر ساتھی ججوں سے مشاورت کی اور اکثریت نے اس کی مخالفت کی۔ تاہم نئے خطوط میں دونوں ججز نے مؤقف اپنایا ہے کہ فل کورٹ کی تشکیل ججز کمیٹی کے فیصلے کی بنیاد پر ہونی تھی، نہ کہ چیف جسٹس کی انفرادی رائے پر۔

خط کے مطابق ججز کمیٹی نے اکثریت کی بنیاد پر فل کورٹ بنانے کا فیصلہ کیا، اور یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب آئینی بینچ کا قیام عمل میں ہی نہیں آیا تھا، لہٰذا کمیٹی کے فیصلے پر عمل نہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ دونوں ججز نے کہا کہ 31 اکتوبر 2024 کو کمیٹی اجلاس میں فل کورٹ کا فیصلہ ہوا، بعد ازاں 4 نومبر کو ایک اور خط لکھا گیا لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔

سورس اردو پوائنٹ

Exit mobile version