ایک خودکش حملہ آور بھی شامل، اسلحہ، بارودی مواد اور ٹارگٹ لسٹ برآمد، زعفران پر دو کروڑ کا انعام تھا: راجہ عمر خطاب
راچی (اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جولائی 2025ء) کراچی میں سی ٹی ڈی نے حساس ادارے کے تعاون سے منگھو پیر میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک خودکش حملہ آور بھی شامل تھا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں سے کلاشنکوف، 2 ٹی ٹی پستول، گرنیڈ، خودکش جیکٹس اور ایک ڈائری برآمد ہوئی، جس میں ممکنہ ٹارگٹس کی تفصیلات درج تھیں۔
انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب نے سول اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خفیہ اطلاع پر منگھو پیر کے علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں دہشت گردوں سے طویل فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد تینوں دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت زعفران، دوسرے کی قدرت اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ تیسرے کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
راجہ عمر خطاب نے بتایا کہ زعفران انتہائی مطلوب دہشتگرد تھا، جس کے سر کی قیمت دو کروڑ روپے مقرر تھی۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشیں قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں مزید آپریشن شروع کر دیا ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھتے تھے اور ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر برپا کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے بریکوٹ میں بھی سی ٹی ڈی نے انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے اہم کمانڈر سمیت تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔
سوات کی تحصیل کبل کے علاقے شلخو سر میں ہونے والی اس کارروائی میں مارے جانے والے دہشتگردوں کی شناخت اجمل، مطیع اللہ اور رحیم اللہ رحمانی کے نام سے کی گئی تھی۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق اجمل عرف وقاص ملوک آباد کا رہائشی تھا اور دہشتگردی کے 9 مقدمات میں مطلوب تھا، جس نے 8 افراد کو قتل کیا تھا۔ مطیع اللہ عرف اسحاق کے خلاف ضلع شانگلہ میں 2 مقدمات درج تھے جبکہ رحیم اللہ عرف روح بھی دہشتگردی کے 2 کیسز میں مطلوب تھا۔
ترجمان کے مطابق ان کارروائیوں میں خفیہ معلومات پر عمل کیا گیا اور سیکیورٹی اداروں نے متعلقہ علاقوں میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
سورس اردو پوائنٹ
