کراچی: سڑکوں کے نام پر صرف گڑھے، شہریوں کی زندگی اجیرن

0
pakalerts
pakalerts

کراچی، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، اب کھنڈر بنتی سڑکوں اور ادھورے ترقیاتی منصوبوں کے باعث شہریوں کے لیے عذاب بن چکا ہے۔ شہر بھر میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، اکھڑے ہوئے راستے اور ہر جانب پھیلی گرد و غبار نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

شہری علاقوں میں صورتحال اس قدر ابتر ہے کہ بڑی شاہراہیں ہوں یا اندرونی گلیاں، ہر طرف صرف کھڈے اور گڑھے نظر آتے ہیں۔ گاڑیاں ان گڑھوں سے گزرتے ہوئے ایسے ہچکولے کھاتی ہیں جیسے کسی رولر کوسٹر پر سفر کیا جا رہا ہو۔

شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر اور ناقص منصوبہ بندی نے کراچی کو دھول، مٹی اور فضائی آلودگی میں ڈبو دیا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی میں اضافے سے سانس کی بیماریوں، آنکھوں کے انفیکشنز اور الرجی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق شہریوں کو اس ماحول میں اپنی قوتِ مدافعت بڑھانے والی غذائیں استعمال کرنی چاہییں، تاکہ وہ آلودگی کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ بلدیات اور ضلعی انتظامیہ کی غفلت نے شہر کو کھڈوں کا قبرستان بنا دیا ہے۔ ان کا شکوہ ہے کہ حکمران صرف اعلانات تک محدود ہیں، عملی طور پر کسی قسم کی بہتری نظر نہیں آتی۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کی سڑکوں کی فوری مرمت اور صفائی کے انتظامات کیے جائیں، کیونکہ موجودہ حالت میں نہ صرف ٹریفک نظام درہم برہم ہے بلکہ روزانہ حادثات بھی معمول بن چکے ہیں۔

Exit mobile version