طیارے نے دورانِ پرواز تکنیکی خرابی کی اطلاع دیتے ہوئے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی اور واپس ایسن بوغا ایئرپورٹ کی طرف رخ موڑا گیا لیکن لینڈنگ سے قبل ہی طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا
لیبیا کے آرمی چیف دیگر اعلیٰ عسکری حکام سمیت طیارہ حادثے میں جاں بحق جس پر میں ملک میں سوگ کا اعلان کردیا گیا۔ عالمی میڈیا کے مطابق ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے قریب پیش آنے والے طیارہ حادثے میں لیبیا کے چیف آف آرمی سٹاف محمد علی احمد الحداد سمیت طیارے میں سوار تمام افراد جاں بحق ہوگئے، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک نجی جیٹ طیارہ انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے لیبیا کے شہر طرابلس کے لیے روانہ ہوا تھا، طیارہ مقامی وقت پر رات 8 بج کر 10 منٹ پر روانہ ہوا، تاہم پرواز کے تقریباً 40 منٹ بعد اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا۔حکام کا کہنا ہے کہ طیارے نے دورانِ پرواز تکنیکی خرابی کی اطلاع دیتے ہوئے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی اور واپس ایسن بوغا ایئرپورٹ کی طرف رخ موڑا گیا لیکن لینڈنگ سے قبل ہی طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا، بعد ازاں انقرہ کے ضلع حایمانہ کے علاقے کیسک کاواک کے قریب طیارے کا ملبہ ملا، اس حادثے میں محمد الحداد کے علاوہ لیبیا کے 4 دیگر اعلیٰ فوجی افسران بھی جاں بحق ہوئے جن میں بری فوج کے سربراہ جنرل الفیتوری غریبل، ملٹری مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمود القطاوی، چیف آف سٹاف کے مشیر محمد الاساوی دیاب اور چیف آف سٹاف کے دفتر سے وابستہ فوٹوگرافر محمد عمر احمد محجوب شامل ہیں، عملے کے 3 ارکان بھی حادثے میں جاں بحق ہوئے۔بتایا گیا ہے کہ لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ نے اپنے ایک بیان میں محمد الحداد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب وفد ترکیہ سے وطن واپس جا رہا تھا، یہ سانحہ پوری قوم، فوجی ادارے اور عوام کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، ملک نے ایسے افراد کو کھو دیا جنہوں نے دیانت داری، نظم و ضبط اور قومی ذمہ داری کے ساتھ اپنے ملک کی خدمت کی، حادثے پر لیبیا میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا، تمام سرکاری تقریبات اور تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ ترک حکام نے ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے امکانات کو مسترد کر دیا اور حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی بتائی، ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلی کایا کا کہنا ہے کہ طیارے نے حایمانہ کے اوپر ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی تھی، طیارے نے بجلی کے نظام میں خرابی کی اطلاع دی تھی، حادثے کے وقت آسمان پر ایک تیز روشنی دیکھی گئی جو ممکنہ طور پر دھماکے کا منظر تھا، انقرہ کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کردی ہیں، ایک لیبیائی ٹیم بھی تحقیقات میں حصہ لینے کے لیے انقرہ جائے گی۔
