پاکستان کا بین الاقوامی وقار مسلسل بڑھ رہا ہے جبکہ مودی دنیا سے منہ چھپا رہا ہے، کشمیر گلگت میں مینڈیٹ ایک بار نہیں دو بار چوری ہوا، پہلے خان اور پھر پی ڈی ایم ون نے چوری کیا۔ بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کشمیر کی عوام سے گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کی آزادی اور حقوق کے لئے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر کے لیے اپنے شہید نانا کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ شہید ہوئے تو نہ صرف مظفرآباد بلکہ خطے کے دیگر حصوں میں بھی کشمیریوں نے احتجاج کیا۔
انہوں نے عالمی سطح پر کشمیر کی تحریک کی نمائندگی کرنے پر اپنی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کیا اور شہید محترمہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہید محترمہ نے ہمیں سکھایا کہ جہاں کشمیر کا پسینہ بہے گا وہاں ہمارا خون بہے گا۔
پی پی پی چیئرمین نے گزشتہ انتخابات میں پارٹی کے مینڈیٹ کی مبینہ چوری کے باوجود کشمیر اور گلگت کے عوام کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مینڈیٹ ایک بار نہیں بلکہ دو بار چوری کیا گیا، پہلے خان صاحب نے اور پھر PDM-1 نے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تسلیم کیا کہ پی پی پی نے پی ڈی ایم ون کے دوران قومی مفاد میں آزاد کشمیر سے متعلق فیصلے کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کشمیر میں سیاست کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر سے سیاست کو ہٹانا پانی کے بغیر مچھلی کے مترادف ہے۔
پی پی پی چیئرمین نے نو منتخب وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر فیصل راٹھور کو ہدایت کی کہ بطور وزیر اعظم آپکے دفتر کے دروازے کشمیر کی عوام کے لئے ہر وقت کھلے ہوں، جس طرح شہید بھٹو نے عوام کا ہاتھ تھاما ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آپ بھی کشمیر کی عوام کے مسائل حل کریں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر کی عوام کو یقین دلایا کہ کشمیر سے کئے گئے وعدے امانت ہیں جو ضرور پورے ہوں گے۔
چیئرمین نے تقریب کے اختتام میں کہا کہ، کشمیر میں کشمیر کی عوام کے نمائندے فیصل راٹھور اور بین القوامی سطح پر کشمیر کے نمائندے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود ہیں۔ چیئرمین بلاول نے آزاد جموں و کشمیر کے منتخب وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور کو ہدایت کی کہ وہ وزیرِ اعظم کی حیثیت میں آزاد کشمیر کے کونے کونے کا دورہ کریں اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح عوامی کھلی کچہریاں لگائیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیرِ اعظم کو خود عوام کے پاس جانا ہوگا اور ان کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ وفاقی حکومت سے درخواست کریں گے کہ وہ اہلِ کشمیر کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے۔چیئرمین نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین، چھ ماہ بعد ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر، پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر اس مقصد کے لیے فیصل راٹھور اور آزاد کشمیر کی حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم آزاد کشمیر کی حکومت بند کمروں میں نہیں چلائیں گے، ہم عوام کے ساتھ مل کر ان کے مسائل حل کریں گے۔چیئرمین بلاول نے کہا کہ مئی میں بھارت کو دی گئی عبرتناک شکست تاریخی نوعیت کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ایک سابق وزیرِ خارجہ کے طور پر میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ پاکستان کا بین الاقوامی وقار مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ مودی دنیا سے منہ چھپا رہے ہیں، چاہے وہ اقوامِ متحدہ ہو یا آسیان کے فورمز۔
اسے بزدلوں کی طرح شکست ہوئی ہے اور وہ جانتا ہے کہ اسے 7-0 کی شکست یاد دلائی جاتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر بچہ بھارت کے کشمیر سے متعلق ایجنڈے کو سمجھتا ہے، جو آپس میں لڑائی کروا کر پاکستان اور کشمیر کے برادرانہ رشتے کو نقصان پہنچانا ہے۔مودی سرکار کی یہ سازش کامیاب نہیں ہوگی، آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام کے رشتے کو کوئی نہیں توڑ سکتا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ لوگ شہید محترمہ بینظیر بھٹو سے ملنے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوا کرتے تھے، اور اس کا ذکر ہیلری کلنٹن نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک موقع ایسا آیا جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو خود کسی کے انتظار میں کھڑی رہیں، اور وہ موقع تھا کشمیری عوام کے لیے۔ او آئی سی کے اجلاس میں، جس کی بنیاد قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی، شہید محترمہ بینظیر بھٹو ایک فائل ہاتھ میں لیے سعودی بادشاہ کے دروازے کے باہر کھڑی رہیں۔
جب بادشاہ نے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے یہاں موجود ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ کشمیری عوام کو او آئی سی میں نمائندگی ملے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے جب وہ او آئی سی کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے تو انہیں اس وقت کے صدرِ کشمیر کو اپنے عوام کے بارے میں بات کرنے کے لیے مدعو کرنے کا موقع ملا۔
انہوں نے ایک بار پھر دوہرایا کہ پیپلز پارٹی اور کشمیری عوام کے درمیان رشتہ تین نسلوں پر محیط ہے اور پیپلز پارٹی ان کے مشن کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ بعد ہم دوبارہ کشمیری عوام کے پاس جائیں گے، ان سے مینڈیٹ لیں گے اور حکومت بنائیں گے۔
