نئی دہلی – بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے سامنے محض 35 منٹ میں ہتھیار ڈال دیے اور یوں ظاہر کر دیا کہ ان کے پاس لڑنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے پائلٹس کو بھی بےبس کر دیا اور اگر وزیراعظم میں ذرا سی بھی ہمت ہے تو وہ امریکی صدر ٹرمپ کو جھوٹا قرار دے کر دکھائیں۔
پارلیمنٹ سے خطاب میں راہول گاندھی نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی بھارت نے جنگ جیتی، تو پھر جنگ بندی کا اعلان امریکہ کیوں کر رہا ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے، اور آج چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
راہول گاندھی نے مزید کہا کہ پوری دنیا میں ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جس نے پاکستان کی مذمت کی ہو، اور یہ مودی حکومت کی سفارتی ناکامی ہے۔ انہوں نے مودی کو چیلنج دیا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے 27 بار کیے گئے سیز فائر کے دعوے کو جھوٹا قرار دیں۔
اسی دوران کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت "آپریشن سندور” کا کریڈٹ تو لینا چاہتی ہے لیکن اس کے نتائج کی کوئی ذمہ داری نہیں لینا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ رکنے کا اعلان بھارت کی حکومت یا فوج نے نہیں بلکہ امریکی صدر نے کیا، جو مودی کی غیر سنجیدگی کا ثبوت ہے۔
راہول گاندھی نے مزید کہا کہ اگر واقعی دشمن جنگ میں پست ہو چکا تھا تو پھر سیز فائر کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت محض پروپیگنڈہ میں مصروف ہے اور عوام کے اصل مسائل پر توجہ نہیں دے رہی۔
ادھر وزیراعظم مودی نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کسی عالمی رہنما نے بھارت کو جنگ روکنے کیلئے نہیں کہا، بلکہ 22 اپریل کی رات امریکی نائب صدر انہیں ایک گھنٹے تک تلاش کرتے رہے تاکہ انہیں ممکنہ پاکستانی حملے سے آگاہ کیا جا سکے۔
مودی کے مطابق، انہوں نے جواب دیا کہ اگر پاکستان نے حملہ کیا تو بھارت بھرپور ردعمل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 22 اپریل کے حملے کا بدلہ صرف 22 منٹ میں لے لیا، اور پاکستان کو واضح پیغام دے دیا کہ نیوکلیئر بلیک میلنگ اب نہیں چلے گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارتی فوج کو مکمل اختیار دے دیا گیا ہے کہ کب، کہاں اور کیسے کارروائی کرنی ہے۔ ان کے بقول، پاکستان کے ڈی جی ایم او نے خود فون کر کے جنگ بندی کی درخواست کی اور کہا کہ "بس کریں، ہم بہت نقصان اٹھا چکے ہیں۔”
اگر آپ چاہیں تو میں اس کا رومن اردو یا انگریزی ترجمہ بھی فراہم کر سکتا ہوں۔
سورس اردو پوائنٹ
