نئے بوئنگ طیارے سبز رنگ میں کیوں رنگے جاتے ہیں؟

0
pakalerts.pk

جب آپ پہلی بار ایک نیا بوئنگ 737 دیکھتے ہیں تو ایسا لگ سکتا ہے جیسے اس پر ایک عجیب سا سبز پیوند نما رنگ چڑھایا گیا ہے — جو بظاہر کسی کم معیار والے پینٹ شاپ کا نتیجہ لگتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سبز کوٹنگ نہ صرف ایک خاص مقصد پورا کرتی ہے بلکہ طیارے اور اس کے مسافروں کی حفاظت کے لیے بھی نہایت ضروری ہے۔

اصل رنگ سبز نہیں!

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پینٹ حقیقت میں سبز نہیں ہوتا۔ اصل میں یہ پیلا رنگ ہوتا ہے، جو اینٹی کورروسیو پرائمر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ طیارے کو زنگ لگنے سے بچایا جا سکے۔

یہ کوٹنگ زنک-کرومیٹ (Zinc-Chromate) کہلاتی ہے۔ یہ سب سے پہلے 1920 کی دہائی میں فورڈ کمپنی نے آٹوموبائل انڈسٹری میں استعمال کی تھی، اور بعد میں فوجی اور کمرشل طیاروں میں بھی رائج ہوئی۔ اس پر جب لیمپ بلیک (Lampblack) شامل کیا جاتا ہے تو یہ سبز ہو جاتی ہے، جس سے یہ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بھی محفوظ رہتی ہے۔

جدید طیارے اور اینٹی کورروسیو پرائمر

آج کے طیارے زیادہ تر ایلکلاڈ (Alclad) سے بنتے ہیں — یہ ایلومینیم الائے اپنی فطرت میں ہی زنگ سے بچاؤ کی خصوصیات رکھتا ہے اور بہت مضبوط اور پائیدار ہے۔ لیکن اس کے باوجود، طیارہ ساز کمپنیاں جیسے بوئنگ، اس پر اضافی تحفظ کے لیے اینٹی کورروسیو پرائمر ضرور لگاتی ہیں۔

یہ طویل عرصے تک زنگ لگنے سے بچاتا ہے اور میٹل فیٹیگ (Metal Fatigue) کے خطرے کو کم کرتا ہے — جو وقت کے ساتھ دھات کو کمزور کر کے طیارے کی ساخت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سبز رنگ میں مختلف شیڈ کیوں ہوتے ہیں؟

اگر آپ نے کبھی کوئی نیا طیارہ بغیر حتمی رنگ کے دیکھا ہو تو اس پر سبز رنگ کے مختلف شیڈز نمایاں ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ:

  • مختلف حصے مختلف کمپنیوں یا ڈویژنز میں تیار ہوتے ہیں۔
  • ہر جگہ مختلف برانڈ کا پرائمر استعمال ہو سکتا ہے، جس سے رنگ میں فرق آتا ہے۔
  • کچھ حصے سفید یا بیج رنگ کے بھی ہوتے ہیں، جو عام طور پر کمپوزٹ میٹریل سے بنے ہوتے ہیں۔ یہ زنگ نہیں کھاتے، اس لیے ان پر زنک-کرومیٹ کی ضرورت نہیں پڑتی۔

سبز پرائمر کے بعد کیا ہوتا ہے؟

اینٹی کورروسیو پرائمر لگانے کے بعد اگلا مرحلہ اصل پینٹ کا ہوتا ہے۔

  • سب سے پہلے ٹیل (Vertical Stabilizer) کو پینٹ کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ طیارے کی ایروڈائنامکس میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کا وزن و توازن بالکل درست ہونا ضروری ہے۔
  • اس کے بعد پورے طیارے پر عام طور پر سفید رنگ کیا جاتا ہے۔
  • پھر ایئر لائن کا لوگو اور ڈیزائن (Livery) شامل کیا جاتا ہے۔
  • آخر میں ایک کلئیر کوٹ (Clearcoat) لگایا جاتا ہے تاکہ رنگ زیادہ دیر تک برقرار رہے۔

لاگت اور وقت

  • ایک طیارے کو مکمل پینٹ کرنے پر تقریباً 1.75 لاکھ سے 2 لاکھ ڈالر خرچ آتا ہے۔
  • یہ عمل عام طور پر ایک سے دو ہفتے لیتا ہے۔
  • بڑے مینوفیکچررز جیسے بوئنگ اور ایئربس کے اپنے پینٹنگ مراکز ہوتے ہیں، مگر وہ اکثر اسپیشلائزڈ کمپنیوں کو بھی آؤٹ سورس کرتے ہیں۔

دوبارہ رنگنے کی ضرورت

ایک طیارے کو صرف ایک بار پینٹ نہیں کیا جاتا۔

  • ہر چھ سال بعد اس پرانا پینٹ اتار کر دوبارہ پینٹ کیا جاتا ہے۔
  • اس عمل میں دوبارہ سبز پرائمر لگایا جاتا ہے تاکہ طیارہ مزید کئی سالوں تک محفوظ رہے۔
Exit mobile version