راولپنڈی: ملک کے مختلف حصوں میں سیلابی ریلوں سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ فوجی جوان بونیر اور شانگلہ کے متاثرہ خاندانوں میں اشیائے خورونوش، کپڑے اور دیگر ضروری سامان تقسیم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کی میڈیکل ٹیمیں متاثرین کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔ مقامی افراد نے پاک فوج کی خدمات کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کی مکمل بحالی تک امدادی کام جاری رہیں گے۔
دوسری جانب، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت نے پاکستان کو دریائے توی میں جموں کے مقام پر ممکنہ بڑے سیلاب کے خطرے سے آگاہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد نے 24 اگست کی صبح باضابطہ طور پر پاکستان کو پیشگی اطلاع دی۔ یہ رابطہ رواں سال مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا بڑا باضابطہ رابطہ ہے۔
خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں حکام نے مزید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث آئندہ دنوں میں مزید مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت نے رواں سال اپریل میں سندھ طاس معاہدہ معطل کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا، ساتھ ہی اٹاری اور واہگہ بارڈر بند کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر بھارت نے پاکستان کو بروقت اطلاع دی ہے، جسے ماہرین دو طرفہ پانی کے معاملات پر محدود تعاون کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
