پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ خطے میں ایک بڑی جیو پولیٹیکل پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یوں دونوں ممالک ایک دوسرے کی سلامتی کے ضامن قرار پائے ہیں۔
سیکیورٹی تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ نے اس معاہدے کو دونوں ممالک کی قیادت کی سیاسی بصیرت اور عسکری سفارت کاری کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد دنیا بھر میں فعال فوجی سفارت کاری کو آگے بڑھایا اور اس معاہدے کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ معاہدہ ماضی کے دفاعی معاہدوں کی توسیع ہے لیکن اس کی نوعیت زیادہ اسٹریٹجک ہے۔ اس کے تحت پاکستان سعودی عرب میں مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑنے پر بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔ ڈاکٹر قمر چیمہ کے مطابق پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت اس وقت ایک پیج پر ہے، جو اس معاہدے کی کامیابی کی بڑی وجہ ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے مسلم ورلڈ کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے اثرات 57 اسلامی ممالک اور عالمی برادری تک محسوس کیے جائیں گے۔ مزید یہ کہ بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ میں پاکستان کی افواج نے ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے امن قائم رکھا، جس سے دنیا کو یہ پیغام ملا کہ پاکستان طاقت کے باوجود خطے میں امن کو ترجیح دیتا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت بھی اب یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اگر کسی ملک کے ساتھ حقیقی دفاعی شراکت داری قائم کی جا سکتی ہے تو وہ صرف پاکستان ہے۔ اس تناظر میں یہ معاہدہ نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے بھی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
