وفاقی حکومت نے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ پروسیسنگ اور زمین کے ریکارڈ تک رسائی کی ڈیجیٹل خدمات کا آغاز کر دیا ہے۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس سہولت کا افتتاح کیا اور اسے سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ اور سرمایہ کاری کے فروغ کی سمت اہم پیش رفت قرار دیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ اقدام برطانیہ میں مقیم 16 لاکھ پاکستانیوں کو جائیداد کی خرید و فروخت، منتقلی اور تنازعات جیسے مسائل کے حل میں مدد فراہم کرے گا۔
لینڈ ریکارڈ سروس کے تحت پاکستانی اپنی جائیدادوں کے ریکارڈ تک آن لائن رسائی حاصل کرسکیں گے، جس میں سیل ڈیڈز، فرد، ای گرداوری، انتقال اور دستاویزات کی تصدیق جیسی سہولتیں شامل ہیں۔ تمام ریکارڈ بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ بنایا گیا ہے تاکہ شفافیت یقینی ہو اور جعل سازی روکی جا سکے۔ ابتدائی طور پر یہ سہولت لندن ہائی کمیشن میں شروع کی گئی ہے اور بعد میں برطانیہ کے دیگر قونصل خانوں تک بڑھائی جائے گی۔
ساتھ ہی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے ون ونڈو پاسپورٹ پروسیسنگ سسٹم بھی متعارف کرایا ہے۔ اس نظام میں درخواست کے تمام مراحل ایک ہی کاؤنٹر پر مکمل ہوں گے اور پروسیسنگ کا وقت گھٹ کر تقریباً 10 منٹ رہ جائے گا۔ اس سے پاکستانیوں کو سہولت، شفافیت اور رش میں کمی کا فائدہ ہوگا۔
سورس اردو پوائنٹ
