اسلام آباد — پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے مختلف شعبوں میں معاہدے طے پا گئے ہیں، جن میں توانائی اور تجارت نمایاں ہیں۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن و خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے۔
یہ معاہدے ایرانی صدر کے پاکستان کے دو روزہ دورے کے دوران اتوار کے روز طے پائے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"ہم نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی یہ ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔”
انہوں نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے حق میں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جون کے بارہ روزہ جنگ میں اسرائیلی جارحیت کا کوئی جواز نہیں تھا، جس میں امریکہ نے اسرائیل کی مدد کی۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے اور خطے میں خوشحالی کے دروازے کھولیں گے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا:
"میرا پختہ یقین ہے کہ ہم مختصر وقت میں باہمی تجارت کو موجودہ 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک پہنچا سکتے ہیں۔”
انہوں نے 12 روزہ اسرائیلی و امریکی جارحیت کے دوران ایران کی حمایت پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے تجزیہ کار عمار حبیب خان نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان غیر رسمی تجارت رسمی تجارتی ہدف سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا:
"دونوں ممالک کے درمیان جاری غیر رسمی تجارت — چاہے وہ تیل، گیس یا دیگر اشیاء ہو — کو باضابطہ بنانے پر بات چیت جاری ہے۔”
تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری یورپ کے ساتھ تجارتی راہداری کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
سورس اردو پوائنٹ
