پاکستان میں غربت 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی بہتری اور ترقی کے دعووں کی قلعی کھول دی
پاکستان کا معاشی ترقی کا ماڈل ناکام ہو رہا ، غربت میں کمی کرنے میں معاون نہیں، پاکستان میں غربت 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی بہتری اور ترقی کے دعووں کی قلعی کھول دی۔ تفصیلات کے مطابق جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو نے پاکستان میں غربت سے متعلق عالمی بینک کی رپورٹ کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان کے معاشی ترقی کے ماڈل پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے کئی اہم حقائق کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی رپورٹ "ریکلیمِنگ مومینٹم ٹوورڈز پراسپرٹی: پاکستان کی غربت، مساوات اور لچک کا جائزہ” انکشاف کیا گیا کہ پاکستان کی ابھرتی ہوا متوسط طبقہ آبادی، جو کل آبادی کا 42.7 فیصد ہے، مکمل معاشی تحفظ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ متوسط طبقہ بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہے جیسے کہ محفوظ نکاسیٔ آب، صاف پینے کا پانی، سستی توانائی اور رہائش۔ یہ پاکستان میں کمزور عوامی خدمات کی فراہمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے 15 سے 24 سال کی عمر کے 37 فیصد نوجوان نہ تو ملازمت کر رہے ہیں اور نہ ہی تعلیم یا تربیت میں شامل ہیں، جس کی وجہ سے آبادی کا دباؤ اور مزدور منڈی کی طلب و رسد میں عدم توازن ہے۔ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان کے معاشی ترقی کے ماڈل پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کا ترقیاتی ماڈل جس نے ابتدا میں غربت کم کرنے میں مدد دی تھی، اب ناکافی ثابت ہوا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2021-22 سے غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کا کبھی امید افزا غربت میں کمی کا سفر اب رک گیا ہے اور برسوں کی محنت سے حاصل کردہ کامیابیاں ضائع ہو رہی ہیں۔حالیہ معاشی دھچکوں نے غربت کی شرح کو مالی سال 2023-24 میں بڑھا کر 25.3 فیصد تک پہنچا دیا ہے، جو آٹھ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ صرف گزشتہ تین برسوں میں غربت کی شرح 7 فیصد بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں قومی سطح پر غربت 25.3 فیصد ہے، جو 8سال کی بلند ترین سطح ہے، لیکن بین الاقوامی غربت لائن کے مطابق یہ شرح 44.7 فیصد تک جا پہنچی ہے۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2001 سے 2015 تک غربت میں اوسطاً سالانہ 3 فیصد کمی ہوئی، جو 2015-18 کے دوران کم ہو کر سالانہ صرف 1 فیصد رہ گئی۔ پھر 2022 کے سیلاب سے غربت میں 5.1 فیصد اضافہ ہوا اور مزید 1.3 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ 2022-23 میں توانائی کی قیمتوں میں حکومتی اضافے کے باعث مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا جس نے گھرانوں کی قوتِ خرید اور حقیقی آمدنی کو شدید متاثر کیا۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا ہے کہ تاریخی طور پر پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ غربت اور عدم مساوات میں کمی کے لیے معاون نہیں رہا۔
