عالمی مارکیٹ سے مہنگی گیس کی خریداری کیلئے حکومت نے مقامی گیس کی پیداوار کم کروا دی

0
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

سورس اردو پوائنٹضرورت سے زیادہ ایل این جی خریداری کی حکومتی پالیسی سے ملکی خزانے کو 1 سال میں 1.2 ارب ڈالرز کا بھاری نقصان ہونے کا انکشاف

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اگست2025ء) عالمی مارکیٹ سے مہنگی گیس کی خریداری کیلئے حکومت نے مقامی گیس کی پیداوار کم کروا دی، ضرورت سے زیادہ ایل این جی خریداری کی حکومتی پالیسی سے ملکی خزانے کو 1 سال میں 1.2 ارب ڈالرز کا بھاری نقصان ہونے کا انکشاف ۔ تفصیلات کے مطابق ایک جانب حکومتی ذرائع دعوے کر رہے ہیں کہ ملک میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر ہیں، جنہیں تلاش کرنے میں امریکا پاکستان کی مدد کرے گا۔

تاہم دوسری جانب سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تیل و گیس کی پیداوار مسلسل گراوٹ سے 20 سلا کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ سامنے آنے والی رپورٹ میں انکشاد ہوا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک میں تیل و گیس کی پیداوار اس قدر کم ہوئی کہ یہ 20 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی۔

یعنی ملک میں 2005 میں تیل و گیس کی پیداوار 2025 کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملک میں تیل و گیس کی پیداوار میں کمی خود حکومت کی جانب سے کروائی گئی۔ مالی سال 2024-25 میں سالانہ بنیاد پر تیل کی پیداوار میں 12 فیصد اور گیس کی پیداوار میں 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس تاریخی کمی کی بنیادی وجہ حکومت کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت ضرورت سے زائد درآمد شدہ گیس کو ترجیح دی گئی جو عالمی سپلائرز کے ساتھ طویل المدتی ٹیک اور پے معاہدوں کے تحت درآمد کی جا رہی ہے۔ ان معاہدوں کے باعث ملکی طلب میں شدید کمی کے باوجود حکومت بیرون ممالک سے گیس کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ بیرون ممالک سے گیس کی خریداری جاری رکھنے کیلئے حکومت نے مقامی تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے وابستہ کمپنیوں کو مقامی ذخائر سے ہائیڈروکاربن کی پیداوار کم کرنے پر آمادہ کیا۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مقامی تیل و گیس کی پیداوار میں کمی اور بیرون ملک سے گیس کی خریداری سے مالی سال 2025 کے دوران ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر 1.2 ارب ڈالر سے زائد کا بوجھ پڑا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان میں تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 62,400 بیرل رہی، جبکہ مکوری ایسٹ، ناشپا، مرمزئی، پساکھی اور مردان خیل جیسے بڑے ذخائر میں پیداوار 3 سے 46 فیصد تک کم ہوئی۔گیس کی یومیہ اوسط پیداوار 2,886 ملین مکعب فٹ رہی۔ قادر پور اور ناشپا جیسے بڑے فیلڈز میں سالانہ بنیادوں پر پیداوار میں بالترتیب 22 اور 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ سوئی کمپنیوں کی جانب سے گیس کی کٹوتی بتائی گئی۔

یہ کمی مالی سال 25 کی چوتھی سہ ماہی اکتوبر تا دسمبرمیں مزید شدید رہی، جب تیل کی پیداوار میں سہ ماہی بنیاد پر 8 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 15 فیصد کمی آئی، جبکہ گیس کی پیداوار میں 7 فیصد سہ ماہی اور 10 فیصد سالانہ کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں بھی تیل و گیس کی پیداوار مزید گرے گی کیونکہ اس وقت پیداوار کا بہاو تقریباً58,000 سے 60,000 بیرل یومیہ اور 2,750 سے 2,850 ملین مکعب فٹ یومیہ کے درمیان ہے۔

سورس اردو پوائنٹ

Exit mobile version