پی آئی اے کی نجکاری فائدہ مند اوراچھا قدم ہے لیکن افتخار چوہدری ہوتے تونجکاری روک چکے ہوتے

0
pakalerts.pk
pakalerts.pk

2015 کے بعد پی آئی اے کو نقصانات ہوئےاس کا کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیئے، پی آئی اے نجکاری آخری اسٹیج پر تھی اور اسحاق ڈار نے کہا کہ اگلی ٹرم میں دیکھیں گے۔ محمد زبیر

 سیاسی رہنماء محمد زبیرعمر نے کہا ہے کہ نجکاری فائدہ مند اوراچھا قدم ہے، افتخار چوہدری ہوتے تونجکاری روک چکے ہوتے، 2015 کے بعد پی آئی اے کو نقصانات ہوئے اس کا کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیئے۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی چیزوں میں گیپ ہیں، افتخار چوہدری ہوتے تو نجکاری روک چکے ہوتے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ نجکاری اچھاقدم ہے اس سے بہت سے فائدے ہوں گے، 2015 کے بعد پی آئی اے کو نقصانات ہوئے اس پر کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیئے، پی آئی اے نجکاری آخری اسٹیج پر تھی اسحاق ڈار نے کہا کہ اگلی ٹرم میں دیکھیں گے۔اس میٹنگ کے بعد باہر نکلے تو اسحاق ڈار نے مجھ سے کہا کہ ان سے سیاسی فائدے لوں گا۔

اپوزیشن کے مئوقف پر اسحاق ڈار نے کہا کہ آپ نہیں چاہتے تو ہم بھی نجکاری نہیں کرتے۔ آخری میٹنگ کے وقت اپوزیشن نے کہا تھا کہ ہم آپ کو سپورٹ نہیں کریں گے ۔ 2015 میں اپوزیشن بہت شور مچاتی تھی پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی اس کے مخالف تھے، پی آئی اے کی نجکاری کیلئے ہم 2015 میں حتمی مرحلے پر پہنچ چکے تھے۔2015میں نجکاری کیلئے پی آئی اے اور اسٹیل مل کو آگے رکھا جبکہ باقی 35ادارے الگ تھے۔نوازشریف نے کہا تھا کہ پی آئی اے اور اسٹیل مل جیسے ہاتھی کو پرائیویٹائز کرنا ہے، نوازشریف نے مجھے پرائیویٹائزیشن کا چیئرمین بنایا تھا، نوازشریف ہمیشہ پرائیویٹائزیشن کے حق میں رہے۔ ہر سال جو ٹیکہ لگتا تھا اس کے حوالے سے یہ اچھی چیز ہوئی ہے۔ مزید برآں رہنما پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی بات جب ہوتی ہے تو پہلے ماحول بنایا جاتا ہے۔بانی سے ملاقاتوں پر پابندی اور جگہ جگہ رکاوٹیں غیرقانونی مقدمات بنائے جاتے ہیں، پی ٹی آئی کو گورنرراج کی دھمکی دی جاتی ہے اس طرح کون مذاکرات کرے گا؟ملک کے حالات یہ ہیں کہ قومی اداروں کو بیچا جارہا ہے، جب یہ پیسا بھی ختم ہوجائے گا تو پھر کیا کریں گے؟انہوں نے کہا کہ شہبازشریف حکومت نے 36ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا، بتایا جائے کہ یہ رقم کہاں لگی؟ جہاں5300ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہو وہاں پی آئی اے کے 135ارب ان کیلئے نسوار کے برابر ہیں۔

Exit mobile version