پی ٹی آئی کے کچھ لوگ وزیراعظم کی پیشکش کا مذاق اڑاتے نظر آئے، وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا وہ مطالبات نہ رکھیں جو پورے نہیں ہوسکتے۔ رہنماء ن لیگ اختیار ولی خان
رہنماء ن لیگ اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی مرضی کا چیف الیکشن کمشنر اور وقت سے پہلے نئے الیکشن ناممکن ہیں،پی ٹی آئی کے کچھ لوگ وزیراعظم کی پیشکش کا مذاق اڑاتے نظر آئے۔انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی وحدت کیلئے سب سے پہلے لہجے درست کرنا ہوتے ہیں، بیرسٹر گوہر اور دیگر لوگوں نے کئی بار مذاکرات کی بات کی ہے، وزیراعظم نے بڑے پن کا مظاہرہ کرکے قومی وحدت کیلئے مذاکرات کی دعوت دی۔پی ٹی آئی کی مرضی کا چیف الیکشن کمشنر اور وقت سے پہلے نئے الیکشن ناممکن ہیں،پی ٹی آئی کے کچھ لوگ وزیراعظم کی پیشکش کا مذاق اڑاتے نظر آئے، وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا وہ مطالبات نہ رکھیں جو پورے نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے کہا کہ آج سے تین سال قبل یہ وہ پاکستان تھا جس کے ٹوٹنے کی آوازیں آرہی تھیں، ملک دیوالیہ ہونے کی بات ہورہی تھی، اب ہم اس پوزیشن سے نکل چکے ہیں ، اس کے بعد ہم نے ترقی کی طرف جانا ہے۔سب سے بڑی بات اور کردار یہ ہوگا کہ اب پاکستان سافٹ اسٹیٹ نہیں بلکہ ایک ہارڈ اسٹیٹ بن چکا ہے۔ مزید برآں پیپلزپارٹی کی رہنماء شرمیلا فاروقی نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی ڈائیلاگ کے حق میں ہے کبھی نہیں چاہتے کہ ڈیڈلاک ہو، بالخصوص جب اپوزیشن کے لوگ ہوتے ہیں تو حکومت کا کام ہوتا ہے کہ ان کو ورکنگ ریلیشن شپ میں لائیں، لیکن یہاں اپوزیشن کا رویہ سب کے سامنے ہے، پہلے بھی مذاکرات ہوئے لیکن پی ٹی آئی بھاگ گئی۔بلاول بھٹو نے بھی کہاکہ مذاکرات کریں ہماری ضرورت ہوئی تو معاونت کریں گے۔ مذاکرات کیلئے پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ اپنے مفاد کی سیاست کرنا چاہتے ہیں قوم کے مفاد میں سیاست کرنا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی کی سیاست کا دائرہ کار صرف عمران خان ہے، قومی مفاد کی ان کی سیاست کے پیرامیٹرز میں کہیں جگہ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاست میں قومی مفاد نہیں ، ان کا مطالبہ صرف بانی بانی بانی ہے۔ لیڈر کی بات ضرور ہوتی ہے لیکن سیاست کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا کہ عمران خان رہا ہوگا تو حکومت کریں ، سیاست کریں یا عمران خان رہا ہوگا تو انڈیا سے بات کریں گے۔
