اسلام آباد وزیرِ مملکت سینیٹر طلال چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 90 فیصد اراکین بانی کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی سے ملاقات پر پاکستان کی سیاست نہیں چل سکتی، کیونکہ مذاکرات ہمیشہ غیر مشروط ہوتے ہیں اور انہیں کسی ملاقات کی شرط سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی میں شکایات بہت زیادہ ہیں اور ہر کوئی بانی پی ٹی آئی سے شکایت کرتا ہے۔ ان کے بقول، بانی کو ہر شخص جا کر دوسروں کے خلاف شکایت پہنچاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی سے ملاقاتیں صرف جیل مینوئل کے تحت ہو سکتی ہیں، کسی کی ذاتی مرضی سے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی سے ملاقات نہ ہونے میں وفاقی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے، جیل کی حفاظت صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور قیدیوں سے ملاقات بھی جیل قوانین کے مطابق ہی ہوتی ہے۔
طلال چودھری نے کہا کہ پاکستان کی سیاست کو کسی ایک ملاقات سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مذاکرات ہمیشہ غیر مشروط ہونے چاہئیں، تاکہ حقیقی مسائل پر بات ممکن ہو۔
14 اگست کو ایک ہاتھ میں پاکستان کا جھنڈا اور دوسرے میں پی ٹی آئی کا: اسد قیصر
دوسری جانب، پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ 14 اگست کو پارٹی کارکن ایک ہاتھ میں پاکستان کا جھنڈا اور دوسرے میں پی ٹی آئی کا جھنڈا تھامیں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 14 اگست تجدیدِ عہدِ وفا کا دن ہے۔ پاکستان ہمارا ملک ہے اور جشنِ آزادی کو بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہم قائداعظم کے پاکستان اور عمران خان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے منائیں گے، اور عہد کریں گے کہ پاکستان کو وہی ملک بنائیں گے جہاں قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ اور تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق موجود ہوں۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ 14 اگست کو سب کو حقیقی آزادی کے لیے نکلنا ہوگا، اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند کرنا ہوگا۔
علی ظفر کا حکومت پر عدلیہ کو ہتھیار بنانے کا الزام
مزید برآں، پی ٹی آئی کے سینیٹر اور پارلیمانی لیڈر علی ظفر نے اراکین کی نااہلی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سینیٹ اجلاس کے دوران، جو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا، علی ظفر نے کہا کہ حکومت نے ہمارے کارکنوں پر سزاؤں کی بارش کرنے کے لیے عدالتوں کا سہارا لیا۔ ان کے مطابق، جھوٹے مقدمات بنا کر سزائیں سنائی گئیں اور فیصلوں کے فوراً بعد الیکشن کمیشن نے اراکین کو نااہل کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ سیٹ تو چھینی جا سکتی ہے، لیکن قوم کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا۔
سورس اردو پوائنٹ
