ہر وقت پھٹے ہوئے مائیک کی طرح مسلسل شور مچانے والا یہ شخص کل تک عمران خان کے قدموں میں بیٹھ کر انہیں اپنا ’’والد جیسا‘‘ قرار دیتا تھا، آج یہ اپنی سیاسی یتیمی چھپانے کے لیے اسی عمران خان، اہل خانہ پر حملہ آور ہے، تحریک انصاف کا ردعمل
پی ٹی آئی نے فیصل واوڈا کو بے نامی سیاسی کباڑی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر وقت پھٹے ہوئے مائیک کی طرح مسلسل شور مچانے والا یہ شخص کل تک عمران خان کے قدموں میں بیٹھ کر انہیں اپنا ’’والد جیسا‘‘ قرار دیتا تھا، آج یہ اپنی سیاسی یتیمی چھپانے کے لیے اسی عمران خان، اہل خانہ پر حملہ آور ہے۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے سینیٹر فیصل واوڈا کی جارحانہ گفتگو پر شدید ردعمل دیا گیا ہے۔تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ” پاکستانی عوام نے بے نامی جائیدادیں سنی ہونگی، بے نامی بینک اکاؤنٹس بھی دیکھے ہیں اور بے نامی لین دین بھی بہت دیکھ چکے ہیں مگر ملک کے سیاسی کباڑ خانے سے پچھلے کچھ برس برس میں ایک نیا تماشہ بھی نکلا ہے، ایک بے نامی سینیٹر! یہ وہی شخص ہے جو ہر وقت پھٹے ہوئے مائیک کی طرح مسلسل شور مچاتا رہتا ہے، اور جس کی پوری سیاست صرف غیر مہذب زبان، دھمکیوں اور بازاری جملوں پر کھڑی ہے۔اس بے نامی سینیٹر نے جو رکیک، گھٹیا اور لچر زبان استعمال کی، وہ اس کے اپنے ذہنی معیار اور "غیر سیاسی” ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کل تک یہی شخص عمران خان کے قدموں میں بیٹھ کر انہیں اپنا ’’والد جیسا‘‘ قرار دے کر سیاسی سایہ تلاش کرتا تھا، اور آج اپنی سیاسی یتیمی چھپانے کے لیے اسی عمران خان اور ان کی فیملی پر حملہ آور ہے۔ عمران خان اور انکی اہلیہ محترمہ بشریٰ عمران صاحبہ جو اس وقت سیاسی انتقام پر مبنی ڈھائی سو سے زائد جھوٹے مقدمات بھگت رہے ہیں انکے بارے اس طرح کی اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔عمران خان سر جھکانے کے بجائے سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ اس کے برعکس، یہ بے نامی کردار اپنی پوری زندگی دوسروں کے اشاروں پر بول کر گزارتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے منہ سے نکلنے والے ہر جملے میں بدزبانی ہے، منفی سوچ ہے اور ایک شدید خوف چھپا ہوا ہے۔ اس شخص کا عدالت کے فیصلے کے بارے میں ’’ایسی کی تیسی‘‘ کہنا کسی سیاسی جماعت یا خاندان کے خلاف نہیں بلکہ براہِ راست عدالتِ عالیہ کی توہین ہے، پہلے بھی یہی بے نامی کباڑی سینیٹر سپریم کورٹ میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ چکا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلے ہی عمران خان کی فیملی، وکلاء اور رفقاء کی ملاقاتوں کو بنیادی حق قرار دے چکی ہے۔ اسکے باوجود عدالت کے احکامات کی تذلیل کرنا اور فیصلوں کو روندنے کی دھمکی دینا نہ صرف جرم ہے بلکہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ یہ شخص خود کو قانون سے بڑا سمجھتا ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب وزیرِاعلیٰ کے بارے میں جو بازاری زبان اور دھمکیاں دی گئیں، وہ لاقانونیت اور سیاسی غنڈہ گردی کا ثبوت ہیں۔ایک غیر منتخب، بے اختیار، بے مقصد سینیٹر کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوامی مینڈیٹ کے حامل وزیراعلیٰ کو بیہودہ دھمکیاں دے۔ ایسا رویہ نہ سیاسی ہے، نہ اخلاقی اور نہ ہی قانونی۔ رہی بات اُس کے بلند بانگ دعوؤں اور گیدڑ بھبکیوں کی تو قوم جانتی ہے کہ یہ اس بے نامی شخص کی صرف ٹویٹر اور ٹاک شوز کی آوازیں ہیں اور حقیقی سیاسی وزن سے خالی۔جنہیں اپنی پہچان بنانے کے لیے دوسری طاقتوں کے کندھوں کی ضرورت پڑتی ہے، وہ سیاسی رہنما نہیں، سیاسی بھانڈ ہوتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف یہ بھی واضح کرتی ہے کہ عمران خان کی عزت، انکی فیملی کی حرمت، اور عدالتوں کے فیصلوں کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی۔ فیملی ملاقات کو سیاسی کہہ کر روکنے کی کوشش دراصل اس ذہنی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے جو ان قوتوں کو عمران خان کے بڑھتے ہوئے عوامی اعتماد سے لاحق ہے۔عوام دیکھ رہے ہیں کہ کون زبان درازی کر رہا ہے، کون عدالتوں کو للکار رہا ہے، کون دھمکیوں کے ذریعے سیاسی ماحول کو آلودہ کر رہا ہے، اور کون جمہوری قدروں پر کھڑا ہے۔ وقت آنے پر فیصلہ بھی عوام ہی کریں گے اور وہ فیصلہ ہمیشہ عمران خان کے حق میں آیا ہے، اور آئندہ بھی آئے گا۔”
