بیجنگ (اگست 2025): روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کو خبردار کیا ہے کہ اگر "عقل و دانش سے کام لیا جائے” تو جنگ کا خاتمہ مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو وہ طاقت کے زور پر اپنے مقاصد حاصل کریں گے۔
مذاکرات کو ترجیح، لیکن سخت مؤقف برقرار
بیجنگ میں چین کے ساتھ نئی گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پوتن نے کہا:
"مجھے لگتا ہے کہ اگر عقل و فہم غالب آئے تو ایک قابل قبول حل پر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے سرنگ کے آخر میں روشنی نظر آ رہی ہو۔”
انہوں نے کہا کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں "سنجیدہ کوششیں” دکھائی دے رہی ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے پا سکے۔ تاہم پوتن نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو روس اپنے اہداف طاقت کے زور پر پورے کرے گا۔
یوکرین پر سخت شرائط
پوتن نے اپنی پرانی شرائط دہراتے ہوئے کہا کہ:
- یوکرین کو نیٹو میں شمولیت کا خیال ترک کرنا ہوگا۔
- یوکرین کو روسی زبان بولنے والوں کے ساتھ مبینہ امتیاز ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی ماسکو آئیں تو وہ ان سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، لیکن ایسی ملاقات "مکمل تیاری کے ساتھ ہونی چاہیے” اور اس کے ٹھوس نتائج نکلنے چاہئیں۔
دوسری جانب، یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے ماسکو کو مذاکراتی مقام کے طور پر قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے "ناقابل قبول” قرار دیا۔
دوریاں برقرار
زیلنسکی مسلسل پوتن سے ملاقات پر زور دے رہے ہیں تاکہ امن معاہدے کے امکانات پر بات کی جا سکے، تاہم دونوں ممالک کے مؤقف میں اب بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ زیلنسکی نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ اگر پوتن مذاکرات پر آمادہ نہ ہوں تو روس پر مزید پابندیاں لگائی جائیں۔
ٹرمپ، جو اس تنازع میں ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں، نے بھی کہا ہے کہ وہ دونوں رہنماؤں کو آمنے سامنے بٹھانا چاہتے ہیں، لیکن فی الحال روس پر ثانوی پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔
روس کی معاشی مشکلات
پوتن نے کہا کہ وہ جنگ کو "پرامن طریقے” سے ختم کرنا پسند کریں گے، لیکن مغربی پابندیوں کے باعث روسی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔
یاد رہے کہ روس نے یوکرین کے چار خطوں کو اپنی ریاست میں ضم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے یوکرین اور بیشتر مغربی ممالک غیر قانونی قبضہ قرار دیتے ہیں۔
