قانونی ماہرین نے حکومت کی تجویز کردہ 27 ویں آئینی ترمیم کو صوبوں کیخلاف بغاوت اور مکمل آئینی سرینڈر قرار دے دیا
قانونی ماہرین نے حکومت کی تجویز کردہ 27 ویں آئینی ترمیم کو صوبوں کیخلاف بغاوت اور مکمل آئینی سرینڈر قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق قانونی ماہرین کی جانب سے حکومت کی تجویز کردہ 27 ویں ترمیم کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں معروف ماہر قانون اور تجزیہ کار ریما عمر کی جانب سے کہا گیا کہ بظاہر مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم مکمل آئینی سرینڈر معلوم ہو رہی ہے۔جبکہ خاتون سیاستدان بشریٰ گوہر کی جانب سے دیے گئے اپنے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ ان کی رائے میں مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم صوبوں کیخلاف بغاوت ہے جس سے فیڈریشن مزید کمزور ہو گی۔ جبکہ سینئر وکیل صلاح الدین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اعلٰی عدلیہ کی آزادی کو مکمل طور پر ختم کر جائے گا اور اس پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی خوشی خوشی راضی ہو جائیں گے۔واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 243 میں ترمیم ہوگی جس کا مقصد آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں شامل کرنا اور اسے تسلیم کرنا ہے۔ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا ہے کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم کا مقصد معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں شامل کرنا اور اسے تحفظ دینا ہے۔دوسری جانب حکومت کی جانب سے 27 ویں آئینی ترمیم کیلئے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس بلانے کی سمری ارسال کردی گئی۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کیلئے قومی اسمبلی و سینیٹ اجلاس رواں ہفتے ہی بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت سینیٹ کا اجلاس کل بروز منگل اور قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کے روز بلانے کے لیے سمری وزیر اعظم کو ارسال کردی گئی۔علاوہ ازیں 27 ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ نکات بھی سامنے آچکے ہیں، 27ویں ترمیم میں آئینی عدالت کے قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی، ججوں کے تبادلے سے متعلق آرٹیکل 200 میں ترمیم کر کے ہائی کورٹ کے ججز کی ٹرانسفر میں ججوں کی رضامندی کی شق ختم کر دی جائے گی، این ایف سی میں صوبائی حصے کے تحفظ کو ختم کرنے، آرٹیکل 243 میں ترمیم، تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے اختیارات کو وفاق کو واپس دینے اور الیکشن کمیشن کی تقرری سے متعلق ڈیڈلاک ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں، اس کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ وزیراعظم کی قیادت میں ن لیگی وفد ملاقات کے لیے آیا اور حکومت نے 27ویں ترمیم کی منظوری میں حمایت مانگی ہے۔
