شکرگڑھ میں سیلابی صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ دریائے راوی کا حفاظتی بند بھیکو چک کے مقام پر ٹوٹنے کے باعث درجنوں دیہات زیر آب آگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق بھیکو چک، ہریالی، ممکہ، نوشہرہ اور نوگزہ کے علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ ننگل، بیرہ، نانوووال اور بارہ منگا میں بھی پانی داخل ہوگیا ہے۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور مسلسل بارشوں کے نتیجے میں دریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی کا بہاؤ خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔
ادھر چندا سنگھ والا سمیت کئی دیہات میں سیلابی ریلے داخل ہوگئے ہیں جبکہ ظفروال میں نالا ڈیک کے طغیانی ریلے سے ہنجلی پل کا ایک حصہ گر گیا، جس کے باعث درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 6 لاکھ 96 ہزار 534 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور بہاؤ 2 لاکھ 45 ہزار 236 کیوسک تک پہنچ گیا۔
دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 2 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا۔
