سٹس سردار اعجاز اسحاق نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو تنقیدی خط لکھ دیا

0
pakalerts.pk

جو روبوٹ کرسی انصاف پر منصب کیے جائیں وہ پروگرامرز کے مرہون منت ہوں گے، ان کے فیصلے ہمیشہ ان پروگرامز کے تابع ہوں گے جو ان میں وقتا فوقتاً فیڈ کیے جائیں گے؛ خط کے مندرجات

 اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے عدالت عالیہ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو سخت تنقیدی خط لکھ دیا۔ اطلاعات کے مطابق جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کا چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو لکھا سخت تنقیدی خط سامنے آگیا، چیف جسٹس کے نام لکھے خط کی کاپی تمام ججز کو بھی ارسال کی گئی، خط میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی فل کورٹ میٹنگ سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے لکھا کہ دنیا میں مصنوعی ذہانت کا استعمال عدلیہ میں شد و مد سے زیر بحث ہے، مصنوعی ذہانت کے عدلیہ میں استعمال کے مخالفین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پروگرام ایبل ہے اس لیے جو روبوٹ کرسی انصاف پر منصب کیے جائیں وہ پروگرامرز کے مرہون منت ہوں گے، ان کے فیصلے ہمیشہ ان پروگرامز کے تابع ہوں گے جو ان میں وقتا فوقتاً فیڈ کیے جائیں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان خط میں مزید لکھتے ہیں کہ کمپیوٹر یا روبوٹ موافق حق یا آزادانہ رائے رکھنے کے قابل نہیں ہوں گے، اس سے قبل میں اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتا تھا لیکن 3 ستمبر کی فل کورٹ میٹنگ کے بعد میرا نقطہ نظر مصنوعی ذہانت کا عدلیہ میں بطور فیصلہ کنندگان استعمال کرنے کے ناقدین کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکا ہے۔

Exit mobile version