پی ٹی آئی حکومت نے پی آئی اے کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، آج پی ٹی آئی حکومت کے چھوڑے کھنڈروں پہ نئی عمارت تعمیر ہو رہی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے پی آئی اے کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، آج پی ٹی آئی حکومت کے چھوڑے کھنڈروں پہ نئی عمارت تعمیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پی آئی اے کا 135ارب میں بکنا ملکی معیشت پہ بڑھتا ھوا اعتماد ھے۔ انشاء اللہ حکومت سرکاری تحویل میں کاروباری اداروں کی نج کار ی سے نہ صرف ہزاروں کھربوں کے نقصان سے نجات حاصل کرے گی بلکہ معیشت کی بحالی عمل تیز ھوگا۔نجکاری کمیشن کو مبارک ھو آج کی ٹرانزیکشن آنے والے وقت میں مزید کامیابیوں کی نوید ھے۔ انشاءاللہ۔ سول ایویشن کی محنت سے یورپ اور برطانیہ کیطرف سے پابندیوں کا خاتمہ آج اس کامیاب ٹرانزیکشن کی بڑی وجہ بنا۔
ماضی میں 10 ارب کی بولی سے آج 135ارب کی قیمت ھماری سول ایوی ایشن ریگولیٹر پہ اعتماد کا ثبوت ھے۔ پی ٹی آئی حکومت نے پی آئی اے کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی آج 3سال کی محنت سے پی ٹی آئی حکومت کے چھوڑے کھنڈروں پہ نئی عمارت تعمیر ھو رہی ھے۔یاد رہے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی خریداری کے لیے عارف حبیب گروپ سمیت چار کمپنیوں کے کنسورشیئم کی جانب سے سب سے زیادہ 115 ارب روپے کی بولی لگائی گئی ہے، اس نجکاری کے لیے عارف حبیب، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی سکول اور لیک سٹی ہولڈنگز پر مشتمل ان 4 کمپنیوں کے کنسورشیئم کے علاوہ پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ایئر بلیو اور لکی گروپ کے کنسورشیئم کی جانب سے بھی پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی گئی۔بتایا گیا ہے کہ آج کی تقریب میں سب سے پہلی بولی جو کھولی گئی وہ لکی گروپ کی جمع کرائی جانے والی پیشکش تھی، جس نے پی آئی اے خریدنے کے لیے 101.5 ارب روپے کی بولی دی، ایئر بلیو نے 26.5 ارب روپے کی بولی جمع کرائی جب کہ تیسری اور آخری بولی عارف حبیب گروپ اور ان کی ساتھی کمپنیوں کی تھی جو سب سے زیادہ 115 ارب روپے کی تھی جب کہ حکومت پاکستان کی جانب سے پی آئی اے کی فروخت کے لیے کم سے کم قیمت 100 ارب روپے مقرر کی گئی۔معلوم ہوا ہے کہ اب عارف حبیب گروپ اور لکی گروپ کے درمیان دوسرے مرحلے میں اوپن بڈنگ ہوگی جس میں فاتح رہنے والا پی آئی اے کا نیا مالک ہوگا کیوں کہ اس سلسلے میں مشیر نجکاری محمد علی کا کہنا تھا کہ اگر بولی دہندگان کی جانب سے ریزرو پرائس سے زیادہ بولی دی گئی تو اوپن بڈنگ کا عمل ہوگا اور سب سے زیادہ بولی دینے والا گروپ کامیاب تصور کیا جائے گا۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی نجکاری کی یہ دوسری کوشش ہے، اس سے پہلے گذشتہ برس کی جانے والی پہلی بڈنگ اس وقت ناکام ہوئی تھی جب قومی ائیرلائن کی خریداری کے لیے ایک کمپنی کی جانب سے صرف 10 ارب روپے کی بولی لگائی گئی تھی، تب حکومت نے کم از کم قیمت 85 ارب روپے رکھی تھی۔
