سعودی عرب کا پاکستان میں 10ارب ڈالر سرمایہ کاری کا پلان برقرار ہے

0
pakalerts.pk
pakalerts.pk

یہ امداد نہیں ہے بلکہ ٹریڈ اور انویسٹمنٹ ہے،سعودی عرب میں 2034 میں ورلڈ کپ ہوگا، اس میں پاکستانی اسپورٹس مینوفیکچرنگ کیلئے بڑے مواقع ہیں۔ وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا انٹرویو

 وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سعودی عرب کا پاکستان میں دس ارب ڈالر سرمایہ کاری کا پلان برقرار ہے یہ امداد نہیں ہے بلکہ ٹریڈ اور انویسٹمنٹ ہے۔ انہوں نے عرب نیوز کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب کا پاکستان میں 10ارب ڈالر سرمایہ کاری کا پلان برقرار ہے، یہ امداد نہیں ہے بلکہ ٹریڈ اور انویسٹمنٹ سے آگے بڑھنا ہے، پائیداری صرف سرمایہ کاری اور تجارت سے آئے گی۔پاکستان بینک ایبل پرائیویٹ سیکٹر منصوبے تیار کررہا ہے، معاشی استحکام کے آثار واضح ہیں، افراط زر اور ڈالر مستحکم ہیں۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی آؤٹ لک بہتر کردی ہے۔ آئی ایم ایف کے دوسرے ریویوکے بعد بورڈ فیصلہ دسمبر کے اوائل میں متوقع ہے۔

معدنیات ، آئی ٹی ، فوڈ ، زراعت اور ٹورازم سعودی سرمایہ کاری کے ٹارگٹ سیکٹرز ہیں۔ سعودی عرب میں 2034میں ورلڈ کپ ہوگا، پاکستانی اسپورٹس مینوفیکچرنگ کیلئے بڑا موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے اہم مرحلہ جلد مکمل ہونے والا ہے، ریکوڈک پہلے سال میں 2.8ارب ڈالر کی برآمدات لا سکتاہے۔امریکا کے ساتھ کریکیٹیکل منرلزپر بڑے معاہدوں پر پیشرفت جاری ہے۔ سب کچھ ٹریڈ اور انویسٹمنٹ میں تبدیل کرنا ہے۔ معیشت کا اگلا فیز مکمل طور پر پرائیویٹ سیکٹر لیڈ کرے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اب سعودی عرب کی سرمایہ کا ری کے لیے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہے کیونکہ طویل بحران کے بعد معاشی استحکام کی ابتدائی نشانیاں سامنے آ رہی ہیں۔مہنگائی جو مئی 2023ء میں تقریباً 38 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی،میں اب نمایاں طور پر کمی آ چکی ہے،روپے کی قدرمستحکم ہوئی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے یہ پیشرفت منظم و منضبط مالیاتی اور زری پالیسیوں کا نتیجہ ہے، فچ اور موڈیز سمیت بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ میں اضافہ کر دیاہے جو برسوں کی تنزلی کے بعد نمایاں تبدیلی ہے، پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 7 ارب ڈالر مالیت کے پروگرام کے وسط میں ہے جو ستمبر 2024ء میں منظور ہوا تھا، پروگرام کا دوسرا جائزہ مکمل ہو چکا ہے اور بورڈ کا فیصلہ دسمبر کے اوائل میں متوقع ہے،اس پیشرفت سے سرمایہ کا روں کو پیغام جا رہا ہے کہ کلی معیشت کے حوالہ سے خطرات بتدریج کم ہو رہے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہاکہ اس پیشرفت نے پاکستان کی ساکھ کو اس وقت مضبوط کیا ہے جب وہ سعودی عرب، چین، امریکہ اور خلیج تعاون کو نسل کے شراکت داروں کی جیو پولیٹیکل حمایت کو براہ راست غیرملکی سرمایہ کا ری میں تبدیل کرنے کی کو شش کر رہا ہے، حکومت کی خواہش ہے کہ اگلے مرحلے کی قیادت نجی شعبہ کرے جبکہ حکومت کا کردار شفاف اور قابل پیشگوئی سرمایہ کا ری ماحول پیدا کرنا ہے۔سینیٹر محمد اور نگزیب نے کہاکہ سعودی عرب کے نقطہ نظر سے وہ تیار،خواہاں اور پوری طرح اہل بھی ہیں اور اب ایک لحاظ سے گیند ہمارے کو رٹ میں ہے کہ ہم قابل سرمایہ کاری و بینک ایبل منصوبے پیش کریں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد قلیل المدت فنانسنگ انتظامات سے آگے بڑھنا ہے، پاکستان امداد نہیں بلکہ تجارت اور سرمایہ کا ری سے آگے بڑھنا چاہتا ہے کیونکہ یہ واضح ہے کہ پائیداری دونوں جانب سے اسی طریقے سے آئے گی۔وزیر خزانہ نے فارورڈ سپورٹس سیالکوٹ کی مثال دی جو ایڈیڈاس کے آفیشل ورلڈ کپ میچ کے بالز تیار کرتی ہے اور حال ہی میں ایک چینی حریف کو پیچھے چھوڑ کر جرمن برانڈ کی سب سے بڑی فٹ بال سپلائر بن گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فارورڈ سپورٹس نے گزشتہ ماہ ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو میں سعودی حکام سے ملاقات کی تاکہ ایسا ماڈل تیار کیا جا سکے جس میں ہائی پریسیژن مینوفیکچرنگ پاکستان میں ہو جبکہ فنشنگ، پیکجنگ اور خطے میں تقسیم سعودی عرب کے پاس ہوں جو مملکت کی مقامی صنعت کا ری کے اقدام کا حصہ ہے۔وزیر خزانہ نے کہاکہ ریکوڈک پراجیکٹ کے لیے طویل عرصے سے زیر انتظار فنانشل کلوز اب بہت قریب ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انٹرنیشنل فنانس کا رپوریشن قرض دہندگان کے کنسورشیم کی قیادت کر رہی ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بین الاقوامی بینکوں کو منصوبہ پر بھرپور اطمینان ہے کیونکہ آئی ایف سی عموماً بڑے اور پیچیدہ وسائل پر مبنی منصوبوں کے لیے مضبوط ڈھانچہ جاتی فنانسنگ کرتی ہے۔وزیر خزانہ نے کہاکہ ایک عنصر یو ایس ایکسپورٹ-امپورٹ بینک کی شرکت ہے جس نے امریکا میں حکومت کی تبدیلی کے دوران عارضی طور پر منظوریوں کا سلسلہ روک دیا تھا، امریکی حکومت مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے اور ایگزم بینک کی شمولیت جلد دوبارہ شروع ہو جائے گی،فنانسنگ کا ڈھانچہ اب عملی طور پر تیار ہے، آئی ایف سی کی قیادت میں کنسورشیم تقریباً 3.5 ارب ڈالر کا منصوبہ جاتی قرض یکجا کر چکا ہے اور اب صرف آخری لینڈرکی منظوری باقی ہے، میرا خیال ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں یہ فائنل ہو جائے گا اور فنانشل کلوز ہو جانا چاہیے۔وزیر خزانہ نے کہاکہ واشنگٹن کے حالیہ دورے میں وہ بین الاقوامی فنانس کا رپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اور تمام کنسورشیم پارٹنرز سے ملے جس سے انہیں اس عمل کی جلد تکمیل کا مزید اعتماد ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک پاکستان کی جمود زدہ برآمدات میں اضافہ کا حامل منصوبہ ہے، پاکستان کی سالانہ برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر کے آس پاس جمی ہوئی ہیں، ریکوڈک منصوبہ فعال ہونے کے پہلے ہی سال میں 2.8 ارب ڈالر کی برآمدی صلاحیت کی توقع ہے جو آج کی کل برآمدات کا تقریباً 10 فیصد ہے،یہ گیم چینجرمنصوبہ ہے۔سینیٹر محمد اور نگزیب نے کہاکہ معدنیات، مائننگ اور اہم معدنیات بہت بنیادی دلچسپی کا شعبہ ہے اور اس پر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان کا واضح ہدف ہے کہ بہتر ہوتی ہوئی معاشی بنیادوں اور سازگار جغرافیائی سیاسی ماحول کو نجی شعبے کی قیادت میں طویل المدتی سرمایہ کا ری میں تبدیل کیا جائے اور اس تبدیلی میں سعودی عرب سب سے اہم شراکت داروں میں ابھر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ان سب کا انحصار اس بات سے ہے کہ مواقع کو تجارت اور سرمایہ کا ری میں کیسے بدلا جائے اور تمام شعبوں میں یہ سب کچھ نجی شعبے کی قیادت میں آگے بڑھے گا۔

Exit mobile version